حکومت پاکستان نے موجودہ ماہ کے آخر تک متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو 2 ارب ڈالر واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ مالیات کے مطابق یہ رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں محفوظ رکھی گئی تھی اور اس پر تقریباً 6 فیصد سود چل رہا تھا، جو ملک کے لیے مہنگا سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:قرضے 5 سال کے لیے ری شیڈول کیے جائیں، پاکستان نے چین سے باضابطہ درخواست کردی
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ رقم پہلے یو اے ای کی جانب سے سالانہ بنیادوں پر دوبارہ رول اوور کی جاتی رہی ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں رول اوور کی شرائط مختصر کر دی گئی تھیں اور دسمبر 2025 میں یہ سہولت صرف ایک ماہ کے لیے بڑھائی گئی، جس کے بعد ماہانہ بنیادوں پر جاری رہی۔
مالیاتی وزارت نے میڈیا میں پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ کے بارے میں پھیلائی جانے والی قیاس آرائیوں کے جواب میں کہا کہ وہ بیرونی مالی بہاؤ کی نگرانی مسلسل کر رہی ہے تاکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف وفد پاکستان سے روانہ، مذاکرات آن لائن جاری رکھنے کا فیصلہ
یہ اقدام ملکی معیشت پر مہنگے سود کے بوجھ کو کم کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی تعلقات کو مستحکم رکھنے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔














