سورج کی حرارت سے براہِ راست چارج ہونے والی پہلی ری چارج ایبل بیٹری تیار

ہفتہ 4 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانتا باربرا کے محققین نے ایسی نئی ٹیکنالوجی تیار کرلی ہے جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کے بجائے حرارت کی شکل میں محفوظ کرتی ہے، جسے توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ نظام مالیکیولر سولر تھرمل سسٹم پر مبنی ہے، جس میں پائریمیڈون نامی مرکب استعمال کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی سائنسدانوں نے 9000 گھنٹے چلنے والی لیتھیئم بیٹری ایجاد کرلی

تحقیق کے مطابق سورج کی روشنی جذب کرنے پر یہ مالیکیول زیادہ توانائی والی حالت میں چلا جاتا ہے، بالکل ایسے جیسے دبایا ہوا اسپرنگ۔ یہ توانائی اس وقت تک محفوظ رہتی ہے جب تک حرارت یا کسی کیمیائی عمل کے ذریعے اسے دوبارہ اپنی اصل حالت میں نہ لایا جائے، جس کے دوران حرارت خارج ہوتی ہے۔

مرکزی محقق ہان نگوین کے مطابق یہ ایک قابلِ دوبارہ استعمال نظام ہے جو بار بار توانائی ذخیرہ اور خارج کرسکتا ہے۔

سائنسدانوں نے اس مالیکیول کو ڈی این اے کی ساخت سے متاثر ہوکر تیار کیا۔ یہ مرکب بالائے بنفشی روشنی کے زیر اثر اپنی ساخت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے طویل عرصے تک توانائی محفوظ رکھنا ممکن ہوگیا ہے۔ اس تحقیق میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے ماہرین نے بھی مالیکیول کی پائیداری کا ماڈل تیار کرنے میں تعاون کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بیٹریاں کچرے میں پھینکنا کیوں خطرناک ہوتا ہے؟

تحقیق کے دوران اس مواد کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 1.6 میگا جول فی کلوگرام سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، جو عام لیتھیئم آئن بیٹریوں کی اوسط 0.9 میگا جول فی کلوگرام صلاحیت سے زیادہ ہے۔

تجربات میں محفوظ شدہ توانائی سے عام ماحول میں پانی کو ابالنے تک کی حرارت حاصل کی گئی، جس سے ثابت ہوا کہ یہ نظام عملی استعمال کے قابل حرارت فراہم کرسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ مادہ پانی میں حل ہوسکتا ہے، جس کے باعث اسے دن کے وقت سولر کلیکٹرز میں گردش دے کر توانائی ذخیرہ اور بعد میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اب سولر کو آپ بھول جائیں، امریکی ’انورٹر بیٹری‘ نے پاکستان میں تہلکہ مچا دیا

محققین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آف گرڈ ہیٹنگ سسٹمز اور گھریلو پانی گرم کرنے کے نظام میں استعمال ہوسکتی ہے، جبکہ اس میں الگ بیٹری کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی کیونکہ یہی مادہ توانائی حاصل اور ذخیرہ دونوں کام انجام دیتا ہے۔

اس تحقیق کو مور انوینٹر فیلوشپ پروگرام کے تحت مالی معاونت فراہم کی گئی، جو 2025 میں ہان نگوین کو سولر توانائی ذخیرہ کرنے کی نئی ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے دی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آئی سی سی کی نئی رینکنگ: بابراعظم اور محمد عباس کی ترقی، رضوان سمیت کئی کھلاڑی تنزلی کا شکار

4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ خان اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

چین کا اے آئی سے ہونے والی آن لائن ہراسانی روکنے کے لیے نئے قانون کا مسودہ جاری

چیف جسٹس کے زبانی احکامات پر مقدمات فکس کرنے  کا سلسلہ ختم، رجسٹرار سپریم کورٹ

اے آئی انقلاب کے ثمرات، مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت سے آمدن 90 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

ویڈیو

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

ایکشن کمیٹی نے الیکشن فارم سے ریاست پاکستان سے وفاداری کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا، وزیر امور کشمیر امیر مقام

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین