آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد کی تحصیل نصیرآباد کے دور افتادہ علاقے پہالیاں میں محکمہ وائلڈ لائف نے ایک بیمار مادہ تیندوا کو بروقت ریسکیو کر کے اس کی جان بچالی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: یونیورسٹی کیمپس میں تیندوا کی موجودگی سے طلبا میں خوف کی لہر، وائلڈ لائف مینجمنٹ کا اظہار لاعلمی
مقامی لوگوں نے پہاڑی نالے کے کنارے تیندوے کو بے حال دیکھا تو فوراً وائلڈ لائف حکام کو مطلع کیا، اطلاع ملتے ہی محکمے کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور تیندوے کو محفوظ طریقے سے ریسکیو کر لیا۔
ڈائریکٹر وائلڈ لائف عبدالشکور کٹاریہ نے بتایا کہ یہ تقریباً 2 سال کی عمر کی مادہ تیندوا تھی اور اس کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی۔ ابتدائی معائنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اسے فوری طور پر اسلام آباد وائلڈ لائف کیئر سینٹر منتقل کیا جائے جہاں اسے بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ وائلڈ لائف آزاد کشمیر کی کارکردگی پر سوالیہ نشان، مادہ چیتا بے چینی کا شکار
اس موقع پر وزیر جنگلات و جنگلی حیات سردار جاوید ایوب نے کہا کہ مظفرآباد میں جنگلی حیات کے علاج کے لیے ابھی تک کوئی مستقل سنٹر قائم نہیں ہو سکا، وسائل کی کمی کی وجہ سے محکمہ ہر جگہ فوری علاج فراہم کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ تاہم حکومت وسائل بڑھانے اور عملے کی تربیت کے ذریعے مستقبل میں ایسے واقعات پر مزید تیز اور مؤثر کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
وزیر نے عوام الناس سے بھی اپیل کی کہ جنگلی حیات کا تحفظ انسانی زندگی اور ماحولیاتی توازن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: شہری آبادی میں گھسنے والا تیندوا 2 روز بعد قابو کر لیا گیا
انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کی فوری اطلاع اور محکمہ کی بروقت رسپانس ہی جنگلی جانوروں کی حفاظت میں سب سے بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور عوام کے اس مشترکہ تعاون سے ہی ایسے کامیاب ریسکیو آپریشن ممکن ہوتے ہیں جو نہ صرف جنگلی حیات کو بچاتے ہیں بلکہ ہمارے ماحول کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز آزاد کشمیر کے علاقے جھنڈگراں میں بھی نایاب نسل کے چیتے کا ایک بچہ مقامی افراد کے ہاتھ لگنے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ بچہ جنگل کے قریب سے ملا جسے کچھ افراد اپنے ساتھ لے گئے۔
واقعے کے بعد مادہ چیتا شدید بے چینی کا شکار ہو گئی ہے اور مختلف مقامات پر چیختی اور گھومتی دیکھی جارہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اپنے بچے سے جدا ہونے کے بعد مادہ چیتا انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے اور کسی بھی وقت انسانی آبادی پر حملہ کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے علاقے ہٹیاں بالا میں تیندوے کا حملہ، 8 سالہ بچی جاں بحق
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے چیتے کو مختلف مقامات پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں مال مویشی پر حملوں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔
مقامی افراد نے محکمہ وائلڈ لائف آزاد کشمیر کو صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے، تاہم اب تک کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی، جس کے باعث محکمہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگلی جانوروں کے بچوں کو انسانی تحویل میں لینا نہ صرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ اس سے جانوروں کے رویے میں اشتعال پیدا ہوتا ہے، جو انسانی جانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد سے پکڑا جانے والا زخمی چیتا ہلاک ہوگیا
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر چیتے کے بچے کو بازیاب کروا کر اس کی ماں کے حوالے کیا جائے تاکہ ممکنہ خطرے کو کم کیا جا سکے اور علاقے میں پھیلی خوف کی فضا کا خاتمہ ہو سکے۔












