آزاد کشمیر کے علاقے جھنڈگراں میں نایاب نسل کے چیتے کا ایک بچہ مقامی افراد کے ہاتھ لگنے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ بچہ جنگل کے قریب سے ملا جسے کچھ افراد اپنے ساتھ لے گئے۔
واقعے کے بعد مادہ چیتا شدید بے چینی کا شکار ہو گئی ہے اور مختلف مقامات پر چیختی اور گھومتی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اپنے بچے سے جدا ہونے کے بعد مادہ چیتا انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے اور کسی بھی وقت انسانی آبادی پر حملہ کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے علاقے ہٹیاں بالا میں تیندوے کا حملہ، 8 سالہ بچی جاں بحق
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے چیتے کو مختلف مقامات پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں مال مویشی پر حملوں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔
مقامی افراد نے محکمہ وائلڈ لائف آزاد کشمیر کو صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے، تاہم اب تک کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی، جس کے باعث محکمہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگلی جانوروں کے بچوں کو انسانی تحویل میں لینا نہ صرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ اس سے جانوروں کے رویے میں اشتعال پیدا ہوتا ہے، جو انسانی جانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد سے پکڑا جانے والا زخمی چیتا ہلاک ہوگیا
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر چیتے کے بچے کو بازیاب کروا کر اس کی ماں کے حوالے کیا جائے تاکہ ممکنہ خطرے کو کم کیا جا سکے اور علاقے میں پھیلی خوف کی فضا کا خاتمہ ہو سکے۔














