بنگلہ دیشی وزیر داخلہ اور یو این ڈی پی وفد کے درمیان پولیس اصلاحات اور انسانی حقوق پر تبادلہ خیال

اتوار 5 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد سے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پولیس اصلاحات اور انسانی حقوق کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں فریقین کے درمیان امن و امان، سیکیورٹی چیلنجز، پولیس اصلاحات، مجوزہ خودمختار پولیس کمیشن اور انسانی حقوق سے متعلق قانونی فریم ورک سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

مزید پڑھیں: امریکا کے ساتھ کوئی خفیہ معاہدہ نہیں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کی وضاحت

اس کے علاوہ قومی انسانی حقوق کمیشن کے آرڈیننس، جبری گمشدگیوں اور روہنگیا کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیر داخلہ نے یو این ڈی پی کے وفد کا خیرمقدم کیا، جبکہ یو این ڈی پی وفد کے سربراہ نے انہیں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی۔

پولیس اصلاحات کے حوالے سے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت فوری ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کے بجائے مرحلہ وار بہتری پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ یو این ڈی پی بنگلہ دیش کی پولیس فورس کی تنظیم نو، اصلاحات اور استعداد بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

یو این ڈی پی کے نمائندے نے اصلاحاتی اقدامات کے لیے ادارے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ تنظیم گزشتہ 15 سے 17 برسوں سے بنگلہ دیش کے قومی انسانی حقوق کمیشن کے ساتھ کام کررہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یو این ڈی پی نے کمیشن کے آرڈیننس کی تیاری میں بھی عالمی بہترین طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے تعاون فراہم کیا ہے۔

انسانی حقوق کے مجوزہ فریم ورک کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کا آرڈیننس ایک خودمختار پولیس کمیشن کے قیام سے منسلک ہے اور مزید جائزے کے بعد اسے بل کی صورت میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

جبری گمشدگیوں سے متعلق مسودہ قانون کے بارے میں سوال پر وزیر داخلہ نے کہاکہ اس آرڈیننس کو بھی پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل مزید جانچ پڑتال کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کی اہم کاروباری رہنماؤں سے ملاقات، معاشی صورتحال اور چیلنجز پر غور

انہوں نے کہاکہ مسودے میں بعض تعریفیں ایسی ہیں جن سے ذمہ دار افراد کی نشاندہی مشکل ہو سکتی ہے۔

روہنگیا کیمپوں میں سیکیورٹی کے حوالے سے وزیر داخلہ نے وضاحت کی کہ آرمڈ پولیس بٹالین (اے پی بی این) تفتیشی ادارہ نہیں ہے، اس لیے وہ باقاعدہ تحقیقات نہیں کر سکتی، تاہم کیمپوں کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنائی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی کانگریس کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا؟ وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ جاری

آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پر بچوں کے لیے خطرناک جال، گروہ کیسے کام کرتے ہیں؟

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئے، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا