راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے فرخ کھوکھر گزشتہ کئی برسوں سے مختلف فوجداری مقدمات کے باعث خبروں کا حصہ رہے ہیں۔ ان کے خلاف مختلف اوقات میں قتل، دہشتگردی، غیر قانونی اسلحہ اور دیگر نوعیت کے مقدمات درج ہوئے، جن میں بعض میں عدالتوں نے انہیں بری کردیا، بعض میں سزا سنائی گئی جبکہ کچھ معاملات میں صرف تفتیش یا مقدمات کا اندراج سامنے آیا۔
واضح رہے کہ فرخ کھوکھر نے گزشتہ سال جولائی میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
مزید پڑھیں: ماجد ستی قتل کیس: فرخ کھوکھر سمیت 3 ملزمان کو عمر قید کی سزا
فرخ کھوکھر کا نام ماجد ستی قتل کیس میں بھی سامنے آیا تھا، استغاثہ کے مطابق ماجد ستی کو 2022 میں راولپنڈی میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا اور مقدمے کی سماعت کے بعد آج 14 جولائی کو عدالت نے فرخ کھوکھر سمیت 3 ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ ایک ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد فرخ کھوکھر کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔
ماضی میں 17 اگست 2012 کو راولپنڈی کے تھانہ ایئرپورٹ پولیس نے گنگال کے علاقے میں پلاٹ کے تنازع پر فائرنگ کے نتیجے میں صابرہ بی بی کے قتل کے الزام میں مقتولہ کے شوہر یعقوب کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔
مقدمے میں تاجی کھوکھر، ان کے بیٹوں فرخ کھوکھر اور عمر کھوکھر سمیت عرفان عرف نکو، وحید، انوارالحق، رمضان، حسن شاہ اور دیگر نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا۔
مقدمے میں قتل، دہشتگردی اور دیگر دفعات شامل کی گئیں۔ اس کیس میں فرخ کھوکھر نے کئی برس جیل میں گزارے، تاہم 26 ستمبر 2018 کو عدالت نے شواہد ناکافی ہونے اور جرم ثابت نہ ہونے کی بنیاد پر انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا۔
9 اکتوبر 2023 کو تھانہ ایئرپورٹ پولیس نے فرخ امتیاز کھوکھر کی اہلیہ رمشہ کی موت کے واقعے پر مقتولہ کے بھائی علی رضا کھوکھر کی مدعیت میں فرخ امتیاز کھوکھر اور ان کے بھائی ثمر امتیاز کھوکھر کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ رمشہ کو گلے میں پھندا ڈال کر قتل کیا گیا اور بعد ازاں واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
مدعی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیاکہ اس کی بہن نے اپنی جان کو لاحق خطرات سے متعلق پہلے ہی آگاہ کیا تھا اور واقعے کے بعد اسے بھی مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
تاہم بعد ازاں عدالتی کارروائی کے دوران فرخ امتیاز کھوکھر اس مقدمے سے بھی بری ہو گئے۔
19 ستمبر 2015 کو اسلام آباد پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کورال کے علاقے میں تاجی کھوکھر کے ڈیرے پر مشترکہ کارروائی کی۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 67 غیر قانونی ہتھیار، 3 ہزار سے زیادہ گولیاں، بڑی مقدار میں غیر ملکی شراب، رینجرز اور پاک فوج سے مشابہ یونیفارم، جوتے اور دیگر حساس نوعیت کا سامان برآمد کیا گیا، جبکہ متعدد اشتہاری اور مشکوک افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، اس کارروائی کے دوران فرخ کھوکھر کی گرفتاری رپورٹ نہیں ہوئی۔
2020 میں راولپنڈی پولیس نے فرخ کھوکھر کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ دھمکی آمیز ویڈیو جاری کرنے کے الزام میں انسداد دہشتگردی ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔
بعد ازاں فورتھ شیڈول کی مبینہ خلاف ورزی کے مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے انہیں ڈسچارج کردیا۔
8 اپریل 2025 کو اسلام آباد پولیس نے سیکٹر ایف 6 میں ایک ریسٹورنٹ کے باہر مبینہ طور پر غیر قانونی اسلحے کی نمائش کے معاملے پر فرخ کھوکھر کے 8 سیکیورٹی گارڈز کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا۔
مزید پڑھیں: جے یو آئی رہنما فرخ کھوکھر پولیس کارروائی پر برہم، ہائیکورٹ جانے کا اعلان
پولیس کے مطابق فرخ کھوکھر کو بھی پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا گیا، تاہم ابتدائی تفتیش کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا، جبکہ مقدمہ ان کے گارڈز کے خلاف درج کیا گیا۔
قانونی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرخ کھوکھر کے خلاف مختلف ادوار میں متعدد مقدمات درج ہوئے، بعض مقدمات میں وہ شواہد ناکافی ہونے پر بری ہوئے یا مقدمات سے ڈسچارج ہوئے، جبکہ اب ماجد ستی قتل کیس میں انہیں عدالت کی جانب عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔














