جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حالیہ حملے اس کی خودمختاری اور سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جن کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے سعودی قیادت، حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ سعودی عرب پر حملے دراصل مسلم امہ کو آپس میں دست وگریباں کرنے کا امریکی اور اسرائیلی منصوبہ ہیں۔
ھم نے روز اول سے امریکی پشت پناھی میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت اور فلسطین سے آگے عرب دنیا اور ایران تک اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور اور غیر مبہم مخالفت کی ھے لیکن خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں ایران کے بارے میں پیدا ھونے والا توسیع…
— Maulana Fazl-ur-Rehman (@MoulanaOfficial) April 7, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے بارے میں توسیع پسندانہ عزائم کا جو تاثر پیدا ہوا ہے وہ بھی مسلم دنیا خصوصاً پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے، اور ایران کو چاہیے کہ وہ اس تاثر کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
انہوں نے مزید کہاکہ یہ حملے غیر ضروری کشیدگی میں اضافے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ان کی جماعت نے شروع دن سے ہی امریکی سرپرستی میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت اور فلسطین سے آگے عرب دنیا اور ایران تک اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی واضح اور دوٹوک مخالفت کی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ باہمی تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں اور اسرائیل کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے یکجہتی کا عملی اظہار کریں۔
ان کے مطابق وقت آگیا ہے کہ مسلم ممالک اپنی آزادی، خودمختاری اور اعلیٰ قومی و ملی مقاصد کے حصول کے لیے ایک مضبوط اسلامی بلاک کی تشکیل کی جانب پیش رفت کریں، جہاں سیاسی، اقتصادی اور معاشی میدان میں ایک دوسرے کا سہارا بن سکیں۔














