پاکستان عالمی سفارتی محاذ پر اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان امن مذاکرات کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں وہی اسلام آباد کے ریڈ زون میں سخت سکیورٹی نافذ کر دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی میٹنگ منسوخ کر دی گئی ہیں، سڑکوں پر سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور فوج کے جوان ہر جگہ تعینات ہیں۔ عوام کو مختلف راستوں سے گزرنے کی اجازت ہے، لیکن کسی کو سیکیورٹی اسکینرز سے بچنے کی چھوٹ نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات سے وابستہ توقعات اور خدشات، دفاعی تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟
بی بی سی سے وابستہ سینیئر صحافی اعظم خان نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ یہ مذاکرات عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں، یہ مذاکرات ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک نازک کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی سیاست میں اس وقت سب سے زیادہ تناؤ کی علامت ہے اور ان مذاکرات کو عالمی میڈیا نے انتہائی اہم سمجھا ہے۔
اعظم خان نے بتایا کہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ محمد باقر قاليباف، اور امریکی وفد میں جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر شریک ہیں۔ پاکستان کی قیادت، فوج اور سول سوسائٹی کی کوششوں سے یہ مذاکرات ممکن ہوئے، جس میں ابتدائی طور پر فائر بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ یہ فائر بندی نازک ہے، لیکن عالمی حملے کو روکنے میں کامیاب رہی ہے۔
اعظم خان نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹس اور ایران کے 10 نکاتی امن منصوبے کے اشارے مثبت ہیں، تاہم مذاکرات کے مکمل کامیاب ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کے کردار کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور پاکستان امن کے ضامن کے طور پر ابھر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان نے اسرائیلی حملے رکوانے کے لیے پاکستان سے تعاون مانگ لیا
صحافی نے بتایا کہ پاکستانی عوام اس موقع پر فخر محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر پاکستان کو مثبت انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی اپنے سبز پاسپورٹ کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں یہ سوچیں گے کہ وہ بھی عالمی امن کے عمل کا حصہ ہیں۔
دو روزہ مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں ڈپلومیٹک اور تجارتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوں گی۔ پاکستان کی ثالثی نے نہ صرف خطے میں امن کی کوششوں کو فروغ دیا بلکہ عالمی سطح پر ملک کی عزت اور وقار میں بھی اضافہ کیا ہے۔











