امریکا اور ایران کی جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا پہلا راؤنڈ آج اسلام آباد میں شروع ہونے جا رہا ہے، پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن کر ابھرا، ماضی کی بڑی بین الاقوامی کانفرنسوں سے لے کر حالیہ اہم مذاکرات تک، دنیا کے طاقتور ممالک کے رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتے رہے ہیں۔
پاکستان کا ایک اہم اور تاریخی کردار 1971 میں سامنے آیا جب اس نے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی میں پل کا کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ ہینری کسنجنر کا پی آئی اے کے جہاز میں خفیہ دورہ چین انتہائی اہم تھا جو کہ پاکستان کے ذریعے ممکن ہوا، ایک اہم پیش رفت تھی، بعد ازاں امریکی صدر رچرڈ نکسن کا تاریخی دورہ چین بھی اسی سفارتی عمل کا تسلسل تھا۔ یہ واقعہ سرد جنگ کے دور میں عالمی سیاست کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے 1974 میں اسلامک سمٹ کانفرنس کی میزبانی کرکے مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تھا۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات سے وابستہ توقعات اور خدشات، دفاعی تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟
لاہور میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں سعودی عرب، لیبیا، مصر اور فلسطین سمیت 30 سے زیادہ اسلامی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی، جس نے پاکستان کے عالمی وقار میں نمایاں اضافہ کیا۔
سال 2004 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والا سارک سمٹ جنوبی ایشیا کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا، جہاں بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور دیگر ممالک کے رہنما شریک ہوئے اور خطے میں معاشی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
سال 2012 میں پاکستان نے ڈی ایٹ سمٹ کی میزبانی کی، جس کے بعد سال 2015 میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا انعقاد بھی پاکستان میں ہی کیا گیا، ان کانفرنسز میں ترکیہ، ایران، ملائیشیا، افغانستان اور دیگر ممالک نے شرکت کرکے اقتصادی و سیکیورٹی تعاون پر زور دیا۔
حالیہ برسوں میں پاکستان کی سفارتی اہمیت مزید بڑھی جب 2024 میں شنگھائی تعاون تنظیم سمٹ کا انعقاد بھی اسلام آباد میں کیا گیا۔ اس اجلاس میں چین، روس، بھارت اور ایران سمیت بڑے ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی، جبکہ کئی وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ بیک وقت اسلام آباد میں موجود رہے، جو ایک غیر معمولی سفارتی منظر تھا۔
رواں سال 2026 میں اسلام آباد میں 4 ملکی وزرائے خارجہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور پاکستان نے شرکت کی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
مزید پڑھیں: عالمی توجہ اسلام آباد پر، ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے؟
یہ اجلاس امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تازہ پیشرفت کے مطابق پاکستان اب امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کی میزبانی بھی کررہا ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ پیشرفت پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار اور عالمی سطح پر اس کی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ ماضی کی کامیاب کانفرنسوں اور حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سیاست میں نمایاں مقام دلایا ہے، اور آنے والے دنوں میں پاکستان مزید اہم بین الاقوامی کردار ادا کر سکتا ہے۔














