ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان کے عالمی امیج میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور عالمی رائے عامہ میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے 14 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد مارچ کے آخر میں پاکستان کے بارے میں 90 فیصد منفی تاثر کم ہو کر 8 اپریل تک 70 فیصد سے زائد مثبت ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات: وزرات اطلاعات نے غیر ملکی میڈیا کے لیے گائیڈ لائنز جاری کر دیں
یہ اعداد و شمار عالمی ادارے آئپسوس کی سوشل لسٹننگ رپورٹ میں سامنے آئے، جس میں پاکستان کی سفارتی حیثیت سے متعلق عالمی ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 23 مارچ کو پاکستان، امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی رابطوں کے بعد عالمی سطح پر بحث کا آغاز ہوا، تاہم ابتدائی ردعمل زیادہ تر منفی تھا۔ ناقدین نے پاکستان کے داخلی سیاسی و معاشی مسائل، خطے میں کشیدگی اور غیر جانبداری پر سوالات کو اس کی وجوہات قرار دیا۔
امریکا، بھارت اور خود پاکستان میں بھی کئی حلقوں نے حکومت کی حکمت عملی پر شکوک کا اظہار کیا۔ تاہم 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی اور عالمی بیانیہ مثبت رخ اختیار کر گیا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات: تعمیری رویہ دیکھنے میں آیا، امریکا میں پاکستانی سفیر کا میٹ دی پریس میں اظہار خیال
رپورٹ میں اس تبدیلی کو ایک ‘اہم موڑ’ قرار دیا گیا ہے، جہاں سوشل میڈیا پر تھینک یو پاکستان جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے اور پاکستان کو بڑے تنازع سے بچانے کا کریڈٹ دیا گیا۔
عالمی سطح پر وزیرِاعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کی قیادت کو بھی سراہا گیا، جبکہ ماہرین نے امید ظاہر کی کہ اس پیش رفت سے آبنائے ہرمز کھلنے اور عالمی ایندھن بحران میں کمی آئے گی۔
اب توجہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات پر مرکوز ہے، جہاں مستقل امن کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔














