قیامِ پاکستان کے بعد سے ملک عالمی سفارتکاری کا ایک اہم مرکز رہا ہے جہاں دنیا بھر کے صدور، وزرائے اعظم اور شاہی شخصیات نے دورے کیے۔ ان دوروں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی، معیشت، دفاع اور عالمی حیثیت کو مسلسل متاثر کیا۔ امریکی صدور نے 5 مرتبہ، چینی صدور 2 مرتبہ اور وزیراعظم ایک مرتبہ، سعودی فرمانروا 3 مرتبہ، ترک صدر 2 مرتبہ پاکستان کے دورے کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا جنگ بندی کے بعد پاکستان کا عالمی امیج بہتر، رائے عامہ میں نمایاں مثبت تبدیلی، رپورٹ
انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو 1948 کو پاکستان پہنچے تھے اور وہ پاکستان آنے والے پہلے غیر ملکی سربراہِ مملکت تھے۔ اس دورے نے نوآزاد مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کو فروغ دیا اور پاکستان کی عالمی شناخت کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور نے 1959 میں کراچی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر ایوب خان سے ملاقات کی۔ اس دورے کے دوران دفاعی اور اقتصادی تعاون پر بات چیت ہوئی اور پاکستان کو امریکی بلاک میں اہم اتحادی کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

چین کے وزیر اعظم چو این لائی کے 1964 کے دورہ پاکستان نے پاک چین تعلقات کی بنیاد مضبوط کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے سرحدی، تجارتی اور سفارتی تعلقات کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
امریکی صدر لنڈن بی جانسن کے 1967 کے دورہ پاکستان میں جنوبی ایشیا کی صورتحال اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر بات ہوئی۔
امریکی صدر نکسن نے 1969 میں لاہور کا دورہ کیا۔ پاکستان نے اس دور میں امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا، جو بعد میں عالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کا سبب بنا۔
یہ بھی پڑھیں:http://جب معاہدہ کراچی کی صورت میں پاکستان نے اپنی پہلی سفارتی کامیابی حاصل کی
سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے 1974 کو پاکستان کا دورہ کیا اور اسلامی ممالک کے اتحاد اور تعاون کو فروغ دیا۔ اسی دور میں اسلامی سربراہی کانفرنس بھی پاکستان میں منعقد ہوئی۔
بھارتی وزیراعظم اٹل بہار واجپائی نے فروری 1999 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور بس سروس کے ذریعے لاہور آئے تھے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دسمبر 2015 کو پاکستان کا غیر سرکاری مختصر دورہ کیا تھا اور نواز شریف کی رہائش گاہ جاتی امرا میں نواز شریف کی نواسی کی شادی کی تقریب میں شرکت کی تھی۔
امریکی صدر بل کلنٹن نے سال 2000 کے دوران حساس حالات میں پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دوران جمہوریت، سیکیورٹی اور خطے کی صورتحال پر اہم بات چیت ہوئی۔

چینی صدر ہو جنتاؤ کے 2006 میں ہونے والے دورہ پاکستان میں دفاع، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدے کیے گئے، جس سے دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔
امریکی صدر جارج بش نے بھی سال 2006 میں پاکستان کا دورہ کیا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ، دفاعی تعاون اور سکیورٹی معاملات پر بات چیت کی گئی۔
چینی صدر شی جن پنگ کے 2015 میں دورہ پاکستان کو تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ اس دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری کا آغاز ہوا، 46 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری اور توانائی اور انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سال 2019 میں دورہ پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے، جس میں گوادر آئل ریفائنری منصوبہ نمایاں تھا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے 2019 میں پاکستان کا دورہ کیا اور 6.2 ارب ڈالر کے مالی پیکیج اور سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس سے پاکستان کو معاشی سہارا ملا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات: وزارت اطلاعات نے غیر ملکی میڈیا کے لیے گائیڈ لائنز جاری کر دیں
ترک صدر رجب طیب اردوان نے 2020 میں دورہ پاکستان کے دوران پارلیمنٹ سے خطاب کیا اور دفاعی، تعلیمی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دیا۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے 2024 میں دورہ پاکستان میں سرحدی تجارت، توانائی اور علاقائی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے 2024 میں ہونے والے دورہ پاکستان میں دفاعی اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دی گئی۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سال 2024 میں علاقائی کانفرنس میں شرکت کی۔
سال 2024 میں اسلام آباد میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم اجلاس میں کئی ممالک کے سربراہان شریک ہوئے اور علاقائی امن، تجارت اور سکیورٹی پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔













