دنیا کے نقشے پر بعض لمحے ایسے آتے ہیں جو محض خبروں کی سطروں میں قید نہیں رہتے، بلکہ تاریخ کے ماتھے پر روشن حرف بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ آج اسلام آباد کی فضاؤں میں سانس لے رہا ہے، جہاں سفارتکاری نے ہتھیاروں کی جگہ لے لی ہے اور جنگ کے بادل مذاکرات کی روشنی میں تحلیل ہونے کو ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے اچانک اپنی رفتار بدل لی ہو اور خطۂ ارضی کسی نئے باب کی دہلیز پر آ کھڑا ہوا ہو۔
یہ وہی اسلام آباد ہے جو آج عالمی سفارتکاری کے ایک غیر معمولی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ امریکی اور ایرانی وفود کی آمد، اور ان کا ایک ہی میز پر بیٹھنا، محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ اس خطے کے لیے ایک نئے عہد کی دستک ہے۔ یہ منظر اس حقیقت کی گواہی دے رہا ہے کہ بعض اوقات جغرافیہ محض سرحدیں نہیں ہوتا، بلکہ امیدوں اور امکانات کا سنگم بھی بن جاتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد جب نور خان ایئر بیس پر اترا تو اس لمحے کی اہمیت کو الفاظ میں سمیٹنا آسان نہیں۔ وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی موجودگی نے اس بات کو مزید واضح کیا کہ یہ محض ایک رسمی دورہ نہیں بلکہ ایک بڑے سفارتی معرکے کا پیش خیمہ ہے۔ اسی طرح برادر ایرانی وفد کی آمد، جس کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، اس بات کا اظہار ہے کہ فریقین اب کسی نہ کسی سطح پر مکالمے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب دنیا کے بڑے تنازعات ٹیبل پر آتے ہیں تو ان کے سائے صرف دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی اور امن کے توازن کو ٹچ کرتے ہیں۔ اسی لیے اسلام آباد میں ہونے والی یہ سفارتی سرگرمی صرف پاکستان کا داخلی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ عالمی نظام کے لیے ایک اہم موڑ بن چکی ہے۔
اس منظرنامے میں پاکستان کا کردار میزبان سے کہیں آگے بڑھ کر ایک سہولتکار ریاست کا بن چکا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی موجودگی میں ہونے والا استقبال اس بات کی علامت ہے کہ ریاست نے اس موقع کو محض رسمی سفارتکاری نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کردار کے طور پر اپنایا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پیشرفت نے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں بیانیے کو بھی نئی جہت دی ہے۔ جہاں ایک طرف سفارتی حلقے پاکستان کے کردار کو سراہ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف عالمی میڈیا میں اس پیشرفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ بعض حلقے اسے خطے میں طاقت کے توازن کی نئی تشکیل سے تعبیر کر رہے ہیں، تو کچھ اسے وقتی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
ممتاز عالمِ دین مفتی تقی عثمانی نے بھی اس موقع پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک نازک مگر متوازن سفارتی کوشش قرار دیا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے مواقع پر دعا اور امید دونوں لازم ہو جاتے ہیں، کیونکہ امن محض معاہدوں سے نہیں بلکہ دلوں کے جھکاؤ سے جنم لیتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا دنیا اس مکالمے کو جاری رکھنے کا حوصلہ رکھتی ہے؟ کیونکہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ امن کبھی ایک لمحے کا نتیجہ نہیں ہوتا، یہ صدیوں کی خواہش، لمحوں کی قربانی اور مسلسل مکالمے کا ثمر ہوتا ہے۔
پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کو ’معرکۂ امن‘ کہا جا رہا ہے۔ مگر یہ معرکہ میدانوں میں نہیں، میز پر لڑا جا رہا ہے اور اس مکالمے میں ہتھیار نہیں، دلیل، تدبر اور برداشت کام آ رہی ہے۔ آج اسلام آباد اسی مکالمے کی دہلیز پر کھڑا ہے اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں سیاست تاریخ سے، اور تاریخ تقدیر سے بات کر رہی ہے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













