بھارت میں مذہبی آزادی پر سوالات، عیدالاضحیٰ بھی سیاسی تنازع بن گئی

بدھ 27 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت اور سماجی تقسیم کے باعث عیدالاضحیٰ جیسے مذہبی تہوار بھی تنازع کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے مذہبی شعائر، خصوصاً جانوروں کی قربانی اور اس سے جڑے معاملات کو لے کر مختلف علاقوں میں کشیدگی اور پابندیوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس سے مذہبی آزادی اور آئینی سیکولرازم پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں عیدالاضحیٰ پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا سلسہ جاری، ہندوتوا کارکن سور لے آئے

بھارت میں ہندو توا نظریے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عیدالاضحیٰ جیسے مذہبی تہوار، جو مسلمانوں کے لیے ایک معمول کی عبادت ہے، اب بعض علاقوں میں سیاسی اور سماجی تنازع کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مسلمانوں کو بعض مقامات پر اپنے مذہبی عقائد کے مطابق جانوروں کی قربانی، جانور رکھنے یا ان کی خرید و فروخت میں مشکلات اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال نے سماجی سطح پر بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔

دہلی کے علاقے ڈنڈوشی میں رہائشی سوسائٹی میں بکریوں کی موجودگی کا تنازع بھی اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں عام مذہبی روایات بھی تنازع کا سبب بن رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ہندو نوجوان شناخت چھپا کر مسلمان خواتین سے شادی کرنے لگے

ناقدین کے مطابق بھارت کا آئینی دعویٰ کہ وہ ایک سیکولر ریاست ہے، موجودہ حالات میں دباؤ کا شکار نظر آتا ہے، جبکہ مذہب کی سیاست اور اقلیتوں کے مذہبی معاملات پر بڑھتی ہوئی سختی معاشرتی تقسیم کو گہرا کر رہی ہے۔

مسلمانوں کی مذہبی رسومات، جیسے عید، مساجد، حجاب اور حلال کھانے سے متعلق مسائل بار بار سامنے آنے سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے خطرات بڑھنے کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لگژری گاڑیوں پر ٹیکس ریلیف نہیں ملے گا، متوسط طبقے کو سہولت دیں گے، مصدق ملک

پولینڈ میں ایک شخص کی اندھا دھند فائرنگ،5 افراد ہلاک، درجن سے زیادہ زخمی

ایران کے زمینی اور بحری راستوں کی نگرانی بڑھانے کے لیے امریکا کا نئی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

ایران کے ایٹمی راز بتانے والے کو 20 ملین ڈالر اور محفوظ پناہ دی جائے گی، امریکا کا اعلان

طالبان ترجمان ذبیع اللہ کا ’داعش‘ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد نکلا، 2 ہزار دہشتگردوں کی موجودگی برقرار

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟