بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت اور سماجی تقسیم کے باعث عیدالاضحیٰ جیسے مذہبی تہوار بھی تنازع کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے مذہبی شعائر، خصوصاً جانوروں کی قربانی اور اس سے جڑے معاملات کو لے کر مختلف علاقوں میں کشیدگی اور پابندیوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس سے مذہبی آزادی اور آئینی سیکولرازم پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں عیدالاضحیٰ پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا سلسہ جاری، ہندوتوا کارکن سور لے آئے
بھارت میں ہندو توا نظریے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عیدالاضحیٰ جیسے مذہبی تہوار، جو مسلمانوں کے لیے ایک معمول کی عبادت ہے، اب بعض علاقوں میں سیاسی اور سماجی تنازع کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مسلمانوں کو بعض مقامات پر اپنے مذہبی عقائد کے مطابق جانوروں کی قربانی، جانور رکھنے یا ان کی خرید و فروخت میں مشکلات اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال نے سماجی سطح پر بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔
دہلی کے علاقے ڈنڈوشی میں رہائشی سوسائٹی میں بکریوں کی موجودگی کا تنازع بھی اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں عام مذہبی روایات بھی تنازع کا سبب بن رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہندو نوجوان شناخت چھپا کر مسلمان خواتین سے شادی کرنے لگے
ناقدین کے مطابق بھارت کا آئینی دعویٰ کہ وہ ایک سیکولر ریاست ہے، موجودہ حالات میں دباؤ کا شکار نظر آتا ہے، جبکہ مذہب کی سیاست اور اقلیتوں کے مذہبی معاملات پر بڑھتی ہوئی سختی معاشرتی تقسیم کو گہرا کر رہی ہے۔
مسلمانوں کی مذہبی رسومات، جیسے عید، مساجد، حجاب اور حلال کھانے سے متعلق مسائل بار بار سامنے آنے سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے خطرات بڑھنے کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔














