عالمی فورمز پر پاکستان کا بلاجواز تذکرہ بھارت کی سفارتی ناکامی کا ثبوت

بدھ 27 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بین الاقوامی سطح پر بھارت کی سفارتی حکمت عملی ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے، جہاں مختلف فورمز پر پاکستان کے حوالے سے اس کے بیانیے اور الزامات کو بعض حلقے سیاسی پروپیگنڈا اور ’خود کو مظلوم ظاہر کرنے کا بیانیہ‘ قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کا ذکر بار بار سامنے آنا اس کی ترجیحات اور سفارتی سمت پر سوالات اٹھاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ایبولا کا پہلا مشتبہ کیس سامنے آگیا، یوگنڈا سے آنے والی خاتون قرنطینہ منتقل

بھارت کی سفارت کاری کے حوالے سے تنقید کی جا رہی ہے کہ جب بھی وہ کسی بین الاقوامی فورم پر جاتا ہے تو اس کی گفتگو میں پاکستان کا ذکر نمایاں طور پر شامل ہوتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل ایک منظم سفارتی حکمت عملی کے بجائے جذباتی اور پروپیگنڈا پر مبنی بیانیے کی عکاسی کرتا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اقوام متحدہ، بین الاقوامی مباحثوں اور ٹی وی مباحثوں میں بھارت کی توجہ اکثر پاکستان کے گرد ہی گھومتی نظر آتی ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی میں پاکستان ایک مستقل مرکزِ توجہ ہے۔

اسی تناظر میں بعض مبصرین یہ بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت قرار دینے والا ملک اپنی سفارتی حکمت عملی میں اتنی زیادہ توجہ ایک ہمسایہ ملک پر کیوں مرکوز رکھتا ہے۔

پاکستان کے مؤقف خصوصاً کشمیر، فلسطین اور سندھ طاس معاہدے جیسے معاملات کو بعض حلقے یہ کہتے ہیں کہ یہ بھارت کو بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ میں لاتے ہیں، جبکہ پاکستان اپنے مؤقف کو قانونی اور اخلاقی بنیادوں پر پیش کرتا ہے۔

مزید یہ کہ پاکستان میں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حوالے سے بھارتی مداخلت یا نیٹ ورکس کے الزامات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں، جن پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

ناقدین کے مطابق خطے کی صورتحال میں استحکام کے بجائے الزام تراشی اور بیانیے کی جنگ نے سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ ہر فریق اپنے مؤقف کو مضبوط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مجموعی طور پر تجزیہ کار اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں سفارت کاری اب محض ریاستی تعلقات تک محدود نہیں رہی بلکہ بیانیے، میڈیا اور عالمی فورمز پر اثر انداز ہونے کی ایک بڑی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp