وفاقی وزیر احسن اقبال نے اسلام آباد امن مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کو ان اہم بات چیت کی میزبانی پر فخر ہے اور یہ دونوں متحارب فریقین کو میدان جنگ سے مذاکرات کی میز تک لانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
اپنے ایکس پیغام میں انہوں نے پاکستان، ایران اور امریکا کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ برادر ممالک کی تعمیری کوششوں کے باعث امن کا یہ موقع ممکن ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوشش اس اصول پر مبنی ہے کہ بداعتمادی کی جگہ مکالمہ لے، کشیدگی کے بجائے تحمل کو فروغ دیا جائے اور جنگی جذبات پر دانشمندی غالب آئے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا جنگ بندی کے بعد پاکستان کا عالمی امیج بہتر، رائے عامہ میں نمایاں مثبت تبدیلی، رپورٹ
احسن اقبال نے کہا کہ جاری تنازع نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس بحران کے معاشی اثرات آسٹریلیا سے لے کر امریکا تک محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں مہنگائی، توانائی کی فراہمی میں خلل، غیر یقینی صورتحال اور مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو مزید لاکھوں افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں، اور اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل فریقین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر کے عام شہری عدم استحکام، مہنگائی اور غیر یقینی کا بوجھ اٹھائیں گے۔
Pakistan is honoured to host the Islamabad Peace Talks and to play its part in bringing the warring sides from the battlefield to the negotiating table. I pay tribute to the leadership of Pakistan, Iran, and the United States, and to all brotherly countries whose constructive…
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) April 11, 2026
وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے، کیونکہ ان کی کامیابی نہ صرف خطے کے امن بلکہ دنیا بھر میں کروڑوں خاندانوں کے معاشی مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھے گی جنہوں نے جنگ کو روکنے کے لیے دانشمندی اور مدبرانہ قیادت کا مظاہرہ کیا۔














