امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں زیادہ تر نکات پر پیشرفت ہوگئی تاہم ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران و امریکا کی 40 سالہ دشمنی کا سفر: دونوں حریف مذاکرات تک کیسے پہنچے؟
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ تقریباً 20 گھنٹے طویل مذاکرات مجموعی طور پر مثبت رہے لیکن اصل اور سب سے اہم معاملہ یعنی ایران کا جوہری پروگرام حل نہیں ہو سکا۔
ان کے مطابق یہی وہ نکتہ تھا جس پر دونوں فریق کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں ملاقات پر مکمل بریفنگ دی گئی ہے جو نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈکشنر نے دی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ مذاکرات اسلام آباد میں پاکستان کی قیادت میں ہوئے۔ انہوں نے اس حوالے سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کی تعریف بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے انہیں خطے میں ممکنہ جنگ روکنے پر شکریہ ادا کیا جس سے ان کے مطابق بڑے انسانی نقصانات سے بچاؤ ممکن ہوا۔ ٹرمپ کے مطابق بعض معاملات پر اتفاق رائے موجود تھا لیکن ایران کے جوہری عزائم پر اختلاف برقرار رہا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کے حوالے سے بھی سخت اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے اور امریکی بحریہ کو ممکنہ طور پر نگرانی اور کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ان کے مطابق امریکا اپنے تجارتی اور بحری مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے اور اگر صورتحال بگڑی تو امریکا مزید سخت اقدامات پر غور کرے گا۔
قبل ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، جو ایران کے لیے بری خبر ہے، جبکہ امریکی وفد بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک تفصیلی اور طویل مذاکرات ہوئے، تاہم اس کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ صورتحال ایران کے لیے بری خبر ہے کیونکہ امریکا نے اپنے مؤقف اور شرائط کھل کر سامنے رکھیں، مگر ایران نے انہیں تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایک واضح اور ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ ایران نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
ایران نے ہماری شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا، بدقسمتی سے ہم کسی معاہدے کے بغیر واپس جا رہے ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس pic.twitter.com/UKLLYzNuCC
— WE News (@WENewsPk) April 12, 2026
جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ ایران ایک مضبوط اور قابلِ تصدیق عزم ظاہر کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسے وسائل حاصل کرے گا جو اسے تیزی سے اس قابل بنا سکیں، تاہم اب تک ایسی کوئی حتمی یقین دہانی سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اگرچہ معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ ایرانی وفد کے ساتھ کئی اہم اور ٹھوس امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس سے آئندہ مذاکرات کے لیے کچھ بنیاد ضرور قائم ہوئی ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد مسلسل اپنے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پینٹاگون اور نیشنل سیکیورٹی اداروں سے متعدد بار مشاورت کی گئی، تاکہ ہر مرحلے پر حکمت عملی کو واضح رکھا جا سکے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ امریکی وفد اب بغیر کسی معاہدے کے واپس امریکا جا رہا ہے، تاہم مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور امید ہے کہ آگے چل کر پیشرفت ہو سکتی ہے۔
جے ڈی وینس نے پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’حیرت انگیز کام‘ کیا اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے پاس اب دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا، ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی میڈیا پر تنقید
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم حتمی پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے واضح اور عملی یقین دہانی ناگزیر ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ‘بہت گہرے مذاکرات’ جاری ہیں، جبکہ انہوں نے چین کو تہران کو اسلحہ فراہم کرنے سے متعلق خبردار بھی کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، ہم ایران کے ساتھ بہت گہرے مذاکرات میں ہیں، اور ہم ہر صورت میں کامیاب ہوں گے۔ ہم نے انہیں عسکری طور پر شکست دی ہے۔’
یہ بھی پڑھیے: دنیا بھر سے خالی آئل ٹینکرز عالمی معیار کا تیل اور گیس حاصل کرنے کے لیے امریکا کا رخ کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے یہ بیان وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر دیا، جہاں سے وہ میامی میں ایک مکسڈ مارشل آرٹس مقابلہ دیکھنے جا رہے تھے۔
چین کی جانب سے ایران کو اسلحہ فراہم کیے جانے کی ممکنہ اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر بیجنگ نے ایسا کیا تو اسے ‘بڑے مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک نشست میں معاہدہ ممکن نہیں، رابطے جاری رہیں گے، تہران
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے کسی فوری یا ایک نشست میں نتیجہ نکلنے کی توقع نہیں تھی، تاہم خطے میں سفارتی رابطے، بالخصوص پاکستان کے ساتھ، آئندہ بھی جاری رہیں گے جو امن عمل کے تسلسل کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں تھا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فطری طور پر ابتدا ہی سے ہمیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے تھی کہ ایک نشست میں معاہدہ ہو جائے گا، کسی کو بھی ایسی امید نہیں تھی۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران مذاکراتی عمل کو ایک مسلسل اور تدریجی مرحلہ سمجھتا ہے، جس میں وقت درکار ہوتا ہے اور فریقین کو اپنے اختلافات کم کرنے کے لیے متعدد نشستوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ تہران کو یقین ہے کہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر دوست ممالک کے ساتھ اس کے سفارتی رابطے جاری رہیں گے، جو نہ صرف مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے بلکہ خطے میں استحکام کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ فریقین فوری پیش رفت کے بجائے طویل المدتی مذاکراتی حکمت عملی پر کاربند ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ممالک کا کردار اس عمل میں ایک اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اعتماد کی بحالی امریکا کی ذمہ داری، محمد باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے نیک نیتی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث اعتماد کا فقدان برقرار ہے، جبکہ پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی سراہا گیا ہے۔
۱/پیش از مذاکرات تأکید کردم که ما حسن نیت و ارادهٔ لازم را داریم ولی به دلیل تجربیات دو جنگ قبلی، اعتمادی به طرف مقابل نداریم.
همکاران من در هیئت ایرانی میناب۱۶۸ ابتکارات رو به جلویی مطرح کردند ولی طرف مقابل در نهایت نتوانست در این دور از مذاکرات اعتماد هیئت ایرانی را جلب کند.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 12, 2026
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ مذاکرات سے قبل ہی ایران نے واضح کر دیا تھا کہ وہ نیک نیتی اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تاہم 2 سابقہ جنگوں کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے مثبت اور تعمیری تجاویز پیش کیں، جبکہ اب امریکا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایران کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
۲/ آمریکا منطق و اصول ما را درک کرد و حالا وقت آن است تا تصمیم گیرد که آیا میتواند اعتماد ما را جلب کند یا نه؟
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 12, 2026
قالیباف کے مطابق ایران سفارتکاری کو اپنی طاقت کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے، جو عسکری جدوجہد کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قومی دفاعی کامیابیوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کسی بھی لمحے اپنی کوششیں ترک نہیں کرے گا۔
انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکراتی عمل میں سہولت کاری پر اپنے برادر اور دوست ملک پاکستان کا شکر گزار ہے اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔
۳/ ما هر آینه، دیپلماسی اقتدار را روش دیگری در کنار مبارزهٔ نظامی برای احقاق حقوق ملت ایران میدانیم و لحظهای از تلاش برای تثبیت دستاوردهای چهل روز دفاع ملی ایرانیان دست نخواهیم کشید.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 12, 2026
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ ایران 9 کروڑ عوام پر مشتمل ایک مضبوط قوم ہے، جس نے سپریم لیڈر کی رہنمائی میں بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی حمایت نے وفد کو حوصلہ دیا اور طویل 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں شریک ٹیم کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔
۴/ همچنین قدردان تلاشهای کشور دوست و برادر پاکستان برای تسهیل فرایند این مذاکرات هستم و به ملت پاکستان درود میفرستم.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 12, 2026
آخر میں انہوں نے ایران کی سلامتی اور استحکام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔
جے ڈی وینس کا پاکستان کی قیادت کو خراجِ تحسین، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں کو سراہا
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا اور ان کی میزبانی و سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
شاندار میزبانی پر پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس pic.twitter.com/ZfJ0JHxh6n
— WE News (@WENewsPk) April 12, 2026
اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کوشش کی۔

میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکرات کے دوران انتہائی متحرک اور مثبت کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر کام کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو قریب لانے کی سنجیدہ کوشش کی۔
نائب صدر کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جہاں پاکستان کی قیادت نے فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور بات چیت کو تعطل کا شکار ہونے سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے نہ صرف اعلیٰ سطحی سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عملی طور پر بھی دونوں جانب اعتماد سازی کی کوششیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی رہنماؤں نے ماضی میں کب کب پاکستان کے اہم دورے کیے؟
جے ڈی وینس نے کہا کہ اگرچہ اس مرحلے پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم پاکستان کی کوششوں نے مذاکرات کو ایک مثبت سمت ضرور دی اور کئی اہم نکات پر پیشرفت ممکن بنائی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی میزبانی اور سہولیات عالمی معیار کے مطابق تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں قیادت کی اور ان کی کاوشیں آئندہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں جب بھی مذاکرات کا اگلا دور ہوگا، پاکستان اسی طرح ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکا روانہ، اعلیٰ قیادت نے رخصت کیا
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ روانہ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا pic.twitter.com/ebEwYsIfw1
— WE News (@WENewsPk) April 12, 2026
اسلام آباد میں منعقد ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کے اختتام کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے وفد کے ہمراہ امریکا واپس روانہ ہو گئے۔ ایئرپورٹ پر انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے الوداع کیا۔
یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت کے کچھ پہلو سامنے آئے، لیکن بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے اس بات کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔













