امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا۔
یہ بھی پڑھیں:جے ڈی وینس کا پاکستان کی قیادت کو خراجِ تحسین، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں کو سراہا
اسلام آباد میں منعقد ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کے اختتام کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے وفد کے ہمراہ امریکا واپس روانہ ہو گئے۔ ایئرپورٹ پر انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے الوداع کیا۔
یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔
شاندار میزبانی پر پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس pic.twitter.com/ZfJ0JHxh6n
— WE News (@WENewsPk) April 12, 2026
امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت کے کچھ پہلو سامنے آئے، لیکن بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے اس بات کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران پاکستان نے ایک اہم ثالثی کردار ادا کیا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی قیادت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی میزبانی اور سفارتی کردار کی تعریف بھی کی، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس مرحلے پر کوئی حتمی پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ فوری طور پر کوئی معاہدہ طے نہیں پایا، لیکن اسلام آباد مذاکرات نے مستقبل میں مزید بات چیت کے لیے ایک بنیاد فراہم کر دی ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔













