ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ عالمی معیشت پر ’کاسکیڈنگ اثرات‘ ڈالے گی، جس سے نہ صرف شرحِ نمو متاثر ہوگی بلکہ مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، چاہے امریکا کی جانب سے اعلان کردہ عارضی جنگ بندی برقرار ہی کیوں نہ رہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ جنگ سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، صدر عالمی بینک اجے بنگا
میڈیا رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو عالمی معیشت کو کہیں زیادہ سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں عالمی اقتصادی ترقی میں 0.3 سے 0.4 فیصد تک کمی آسکتی ہے، جبکہ جنگ کے طویل ہونے کی صورت میں یہ کمی ایک فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی میں 200 سے 300 بیسز پوائنٹس تک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ طویل تنازع کی صورت میں یہ دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ ورلڈ بینک کے تازہ تخمینوں کے مطابق ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کی شرحِ نمو 2026 میں 3.65 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو پہلے 4 فیصد تھی، تاہم بدترین صورتحال میں یہ 2.6 فیصد تک گر سکتی ہے۔
اجے بنگا کے مطابق توانائی کے بحران اور رسد کی رکاوٹوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے گیس، کھاد، ہیلیئم اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت اور فضائی سفر بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ورلڈ بینک کی سربراہی کے لیے نامزد بھارتی نژاد اجے بنگا کون ہیں؟
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی ناکام ہوئی تو اس کے اثرات زیادہ دیرپا اور شدید ہوں گے، خاص طور پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سوال اہم ہے کہ آیا موجودہ امن کوششیں خطے میں پائیدار استحکام لا سکیں گی یا نہیں۔
ورلڈ بینک صدر نے کہا کہ ادارہ پہلے ہی کئی ترقی پذیر ممالک، خصوصاً چھوٹے جزائر، کے ساتھ ہنگامی مالی معاونت پر بات چیت کر رہا ہے تاکہ توانائی کے بحران سے نمٹا جا سکے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ضروری سبسڈی کے اجراء سے مالی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

اجے بنگا نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک پہلے ہی بلند قرضوں اور مہنگی شرحِ سود کے دباؤ میں ہیں، جس کے باعث ان کی معاشی گنجائش محدود ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق توانائی کے متبادل ذرائع جیسے جوہری توانائی، ہائیڈرو اور جیو تھرمل پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے، ورنہ دنیا کو زیادہ مہنگے اور روایتی ایندھن پر انحصار کرنا پڑے گا۔
انہوں نے نائیجیریا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بڑی سرمایہ کاری کے باعث توانائی کی خود کفالت میں بہتری آئی ہے، جبکہ موزمبیق سمیت دیگر ممالک میں بھی توانائی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق توانائی کے شعبے میں تنوع عالمی معیشت کے استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔











