پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے امریکی ایران جنگ کے آغاز سے ہی سفارتی محاذ پر سرگرم کردار ادا کرتے ہوئے مسلسل ٹیلی فونک رابطوں کے ذریعے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اسلام آباد کو ایک ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں:پائیدار امن کے لیے امریکا ایران ڈائیلاگ میں سہولت کاری جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بیک چینل اور براہِ راست سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس مسلسل ٹیلی فونک سفارتکاری کے ذریعے پاکستان نے خود کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک پل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ کے مطابق ابتدائی دن سے ہی وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے رابطے شروع کیے، خطے میں کشیدگی کی مذمت کی اور علاقائی یکجہتی کا اظہار کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ رابطے مزید وسیع ہوتے گئے اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس سفارتی مہم میں شامل ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:پائیدار امن کے لیے امریکا ایران ڈائیلاگ میں سہولت کاری جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار
دونوں رہنماؤں نے ایران، خلیجی دارالحکومتوں اور دیگر اہم علاقائی شراکت داروں کے ساتھ متعدد بار ٹیلی فونک گفتگو کی، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور مکالمے کو فروغ دینا تھا۔
اس سفارتی سرگرمی کے ذریعے پاکستان کی قیادت نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔














