قدیم اناج واقعی زیادہ صحت مند ہیں؟ کوئنو اور اسپیلٹ کے بارے میں حیران کن حقیقت

اتوار 12 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کیا قدیم اناج (اینشیئنٹ گرینز) کے صحت سے متعلق دعوے واقعی درست ہیں یا یہ صرف ایک بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی مقبولیت ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا جواب اتنا سادہ نہیں جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فائبر کا استعمال ہماری عقل اور یادداشت کو کیسے محفوظ رکھتا ہے؟

قدیم اناج وہ ہوتے ہیں جو صدیوں بلکہ ہزاروں سال سے اپنی اصل شکل میں موجود ہیں اور انسانی کاشتکاری کے باوجود ان میں زیادہ جینیاتی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس کے مقابلے میں جدید فصلیں جیسے گندم، مکئی اور چاول انسانی انتخابی کاشت کے ذریعے وقت کے ساتھ بہتر پیداوار اور ذائقے کے لیے تبدیل کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ عام طور پر استعمال ہونے والی گندم اور مکئی کو قدیم اناج میں شامل نہیں کیا جاتا البتہ ان کی کچھ پرانی اقسام جیسے قدیم گندم کی اقسام اسپیلٹ اور ایمر قدیم اناج شمار ہوتی ہیں۔

عام طور پر اناج ہمیں کاربوہائیڈریٹس، فائبر اور کچھ پروٹین فراہم کرتے ہیں، جبکہ مکمل اناج (ہول گرینز) میں ان کے تمام قدرتی حصے بران، جرثومہ اور اینڈوسپرم موجود ہوتے ہیں جو زیادہ غذائیت رکھتے ہیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مکمل اناج کھانے سے ذیابطیس ٹائپ 2، بلڈ پریشر اور کچھ اقسام کے کینسر کے خطرات میں کمی کا تعلق پایا گیا ہے۔ تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نتائج مکمل طور پر حتمی نہیں کیونکہ صحت مند اناج کھانے والے افراد عموماً مجموعی طور پر صحت مند طرزِ زندگی بھی رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے: زیادہ فائبر بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے، ماہرِ صحت کا انتباہ

کوئنو، اسپیلٹ اور دیگر قدیم اناج حالیہ برسوں میں دوبارہ مقبول ہوئے ہیں۔ کچھ مطالعات میں کوئنو کے استعمال سے خون میں شکر کی سطح بہتر ہونے کے اشارے بھی ملے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ان پر تحقیق ابھی محدود ہے۔

علاوہ ازیں جدید گندم اور دیگر اناج کی غذائیت میں بڑی کمی کے شواہد بھی واضح نہیں ملتے، اگرچہ کچھ معدنیات میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل فرق قدیم یا جدید اناج کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم انہیں مکمل (whole) شکل میں کھاتے ہیں یا پراسیس شدہ شکل میں۔ زیادہ فائبر، وٹامنز اور معدنیات کے لیے مکمل اناج زیادہ فائدہ مند ہیں۔

مزید پڑھیں: فائبر کا استعمال ہماری عقل اور یادداشت کو کیسے محفوظ رکھتا ہے؟

ماہرین یہی مشورہ دیتے ہیں کہ کسی ایک قسم کے اناج پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف قسم کے اناج خاص طور پر مکمل اناج کو اپنی غذا کا حصہ بنایا جائے کیونکہ غذائی تنوع ہی بہتر صحت کی کنجی ہے۔

واضح رہے کہ قدیم اناج سے مراد وہ اناج ہیں جو ہزاروں سال قبل انسانی غذا کا حصہ بنے اور جن کی جینیاتی ساخت میں جدید دور کی زرعی کاشتکاری کے باوجود زیادہ تبدیلی نہیں کی گئی۔ یہ اناج اپنی اصل یا قریب تر اصل شکل میں موجود رہتے ہیں اسی لیے انہیں قدیم کہا جاتا ہے۔ ان میں کوئنو، اسپیلٹ، ایمر گندم، جو، باجرا اور چیا کے بیج جیسے اجناس شامل ہیں جو مختلف خطوں میں صدیوں سے استعمال ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: صحت کیلئے مفید فائبر سے بھرپور غذائیں کونسی ہیں؟

جدید اناج کے مقابلے میں قدیم اناج کو اکثر زیادہ قدرتی اور کم پراسیس شدہ سمجھا جاتا ہے تاہم ماہرین کے مطابق اصل فرق اناج کے قدیم یا جدید ہونے سے زیادہ اس بات میں ہے کہ انہیں مکمل (ہول گرین) شکل میں استعمال کیا جائے یا پراسیس شدہ حالت میں۔ مکمل اناج عام طور پر زیادہ فائبر، وٹامنز اور معدنیات فراہم کرتے ہیں، اس لیے متوازن غذا کے طور پر مختلف اقسام کے اناج کا استعمال زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موبائل فونز پر بھاری ٹیکس پر پارلیمانی تشویش، کمی کی سفارش

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس میں ہزار پوائنٹس کے قریب اضافہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بڑے فیصلے: ایک لاکھ طلبہ کے لیے مفت گوگل کورسز اور ریکارڈ اسکالرشپس سمیت متعدد اعلانات

سعودی عرب کا بڑا مالی تعاون: پاکستان کے 3 ارب ڈالر ڈپازٹ میں توسیع کا معاہدہ طے

ٹرمپ کے ڈیپ فیک میمز کا بڑھتا رجحان: سوشل میڈیا پر سیاست کا نیا ہتھیار

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘