بنوں آپریشن میں افغان حمایت بے نقاب، فتنہ الخوارج کے خلاف پاکستان کا فیصلہ کن اقدام

پیر 13 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنوں میں حالیہ سیکیورٹی آپریشن نے نہ صرف ایک اہم شدت پسند کو ہلاک کیا بلکہ خوارج نیٹ ورکس کے پسِ پردہ موجود علاقائی روابط کو بھی بے نقاب کر دیا۔ اس کارروائی میں افغان طالبان کے سابق رکن فتح اللہ عرف مدثر، جو پکتیا سے تعلق رکھتا تھا اور بعد ازاں فتنہ الخوارج میں شامل ہو گیا تھا، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا۔

مزید پڑھیں: لکی مروت میں مولانا خالد امین قتل، خوارج کی انسانیت دشمنی ایک بار پھر بے نقاب

یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان خوارج کے خلاف منظم اور انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان آپریشنز کا مقصد نہ صرف دہشتگرد نیٹ ورکس کا خاتمہ ہے بلکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے شورش زدہ علاقوں میں ریاستی رٹ کو مستحکم کرنا بھی ہے۔

دوسری جانب یہ حقیقت بھی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ خوارج عناصر اپنی بقا کے لیے افغان سرزمین اور وہاں موجود سہولتکاری پر انحصار کرتے ہیں۔ سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں، بھرتی کے ذرائع، تربیتی کیمپ اور آپریشنل منصوبہ بندی ان کے لیے ناگزیر سہارا بن چکے ہیں، جو ان کی اندرونی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستانی فورسز کے ساتھ براہ راست مقابلے کی صلاحیت نہ رکھنے کے باعث یہ عناصر افغان علاقوں کو بطور محفوظ پناہ گاہ استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کی کارروائیاں زیادہ تر سرحدی علاقوں تک محدود رہتی ہیں۔

فتح اللہ کی ہلاکت اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ افغان طالبان سے وابستہ عناصر اور خوارج کے درمیان روابط اور ہم آہنگی کا ایک تسلسل موجود ہے، جو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث رہتا ہے۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 13 خوارج ہلاک

یہ کامیاب آپریشن پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور درست حکمت عملی کا مظہر ہے۔ ریاست کی جانب سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد نہ صرف دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کو کمزور کر رہا ہے بلکہ ان کے آپریشنل دائرہ کار کو بھی بتدریج محدود کر رہا ہے۔

مجموعی طور پر بنوں آپریشن اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp