ایرانی بحری جہاز امریکی ناکہ بندی کے قریب آئے تو تباہ کردیے جائیں گے، ٹرمپ

پیر 13 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو متنبہ کیا ہے کہ امریکی افواج ان کشتیوں کو تباہ کر دیں گی جو امریکی بحری ناکہ بندی کے قریب آئیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: میرا فریضہ امن پھیلانا ہے، ٹرمپ سے ڈرتا نہیں، پوپ لیو

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کہا کہ اگر کوئی ایرانی جہاز امریکا کی ناکہ بندی کے قریب آیا تو اسے فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران کی بحریہ کو پہلے ہی بڑی حد تک تباہ کیا جا چکا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی فوجی کارروائیاں ان ہی طریقوں سے کی جائیں گی جو منشیات کے مبینہ اسمگلروں کے خلاف سمندر میں استعمال کی جاتی ہیں اور انہوں نے وینزویلا کے قریب ہونے والی فضائی کارروائیوں کا حوالہ بھی دیا۔

آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی

رپورٹس کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز اور ایران کی بندرگاہوں پر جزوی ناکہ بندی نافذ کر دی ہے جو پیر کی صبح سے مؤثر ہو گئی۔ یہ آبنائے تیل اور دیگر اہم تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے: کیا اسلام آباد ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے؟

ایران  کی انقلابی گارڈز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ان کے مکمل کنٹرول میں ہے اور غیر فوجی جہازوں کے لیے کھلی ہے تاہم فوجی جہازوں کو سخت جواب دیا جائے گا۔

کشیدگی اور سفارتی کوششیں

یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کی ثالثی سے ہونے والے مذاکرات کے بعد بھی امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات میں اصل اختلاف ایران کے جوہری پروگرام پر تھا جبکہ امریکا نے واضح کر دیا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی حکام کے مطابق خطے میں موجود امریکی بحری بیڑے میں متعدد جنگی جہاز شامل ہیں جو اس ناکہ بندی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کا کردار اور امن کوششیں

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے اسلام آباد میں امن مذاکرات عالم اسلام کے لیے فخر کا باعث ہے، وزیراعظم شہباز شریف

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

مذاکرات کا پس منظر

اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے سے زائد جاری رہے جن میں فریقین نے اپنی اپنی پوزیشن پیش کی تاہم حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا