مہنگے ایندھن سے بچنے کے لیے روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا فیصلہ

منگل 14 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے ایندھن کی قلت کے پیش نظر منگل کے روز باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں ممکنہ بڑے اضافے سے بچنے کے لیے ’پیک آورز‘ کے دوران روزانہ 2 گھنٹے سے زائد لوڈ مینجمنٹ کیا جائے گا۔

پاور ڈویژن کے جاری کردہ بیان کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے درمیان روزانہ تقریباً سوا 2 گھنٹے کے لیے بجلی کی فراہمی معطل رکھی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ اس اقدام کا مقصد مہنگے ایندھن کے استعمال میں کمی لانا اور بجلی کے نرخوں میں اچانک اضافے کو روکنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایندھن بحران کا خدشہ، پاکستان نے غیر ملکی ایئرلائنز پر سخت پابندیاں عائد کردیں

یہ صورتحال قطر کی جانب سے اپنے گیس فیلڈ پر حملوں کے بعد فورس میجر قرار دینے کے نتیجے میں مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی درآمدات معطل ہونے سے پیدا ہوئی ہے۔

قطر پاکستان کو طویل المدتی معاہدوں کے تحت یومیہ ایک ارب مکعب فٹ تک ایل این جی فراہم کرنے والا بڑا سپلائر ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں بجلی کی مجموعی طلب پوری کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم پیک آورز کے دوران، خاص طور پر پن بجلی کی پیداوار کم ہونے کے باعث، چیلنجز بڑھ جاتے ہیں۔

شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جسے مہنگے ایندھن سے پورا کرنے کی صورت میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ حکومت کی مسلسل کوششوں سے ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔

جولائی سے فروری تک اوسط ٹیرف میں فی یونٹ 71 پیسے کمی ہوئی، جس سے مجموعی طور پر 46 ارب روپے کا ریلیف ملا۔

مزید پڑھیں: ایندھن کا بحران: آپ فیول کی بچت کیسے کر سکتے ہیں؟

پاور ڈویژن کے مطابق یہ کمی ساختی اصلاحات، ہدفی ریلیف اقدامات، بہتر منصوبہ بندی اور نظام کی مؤثر کارکردگی کے ذریعے ممکن ہوئی۔

کم لاگت بجلی کے ذرائع کو ترجیح دی گئی جبکہ ترسیل اور انتظامی نظام میں بہتری سے نقصانات کم ہوئے۔

مزید کہا گیا کہ ان اقدامات سے نظام کی مجموعی کارکردگی بہتر ہوئی اور صارفین کو پائیدار ریلیف فراہم کیا گیا۔

عالمی حالات کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار مستحکم رہی اور نظام طلب پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بیان کے مطابق صورتحال کی مسلسل نگرانی وزیر اعظم شہباز شریف کی براہ راست نگرانی میں کی جا رہی ہے۔

حکومت نے ہدایت دی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں بڑا اضافہ نہ ہونے دیا جائے، اور اگر فرنس آئل کے استعمال سے کچھ اضافہ ہوتا بھی ہے تو اسے کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جائے۔

مزید پڑھیں: تیل کے عالمی بحران کے دوران توانائی کے صاف اور قابل تجدید ذرائع پر اعتماد بڑھنے لگا، رپورٹ

اسی سلسلے میں پاور پلانٹس کو 80 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس فراہم کی گئی ہے، جس سے فی یونٹ تقریباً 80 پیسے اضافے سے بچاؤ ممکن ہوا اور اضافی لوڈ مینجمنٹ کی ضرورت بھی کم ہوئی۔

پاور ڈویژن کے مطابق پیک آورز میں 2.25 گھنٹے کی محدود لوڈ مینجمنٹ کا مقصد فی یونٹ تقریباً 3 روپے اضافے کو روکنا ہے۔

اگرچہ فرنس آئل کے محدود استعمال کے باوجود فی یونٹ تقریباً ڈیڑھ روپے اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم ان اقدامات کے بغیر یہ اضافہ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک پہنچ سکتا تھا۔

مزید پڑھیں: عالمی توانائی بحران مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا انتباہ

تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فیڈر کی سطح پر لوڈ شیڈنگ کا شیڈول صارفین کے ساتھ شیئر کریں تاکہ عوام کو پیشگی آگاہی ہو۔

غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ مقامی خرابی کی صورت میں متعلقہ دفاتر صارفین کو مطلع کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ حکومت عالمی حالات کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی توانائی بحران مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا انتباہ

یہ اقدام روایتی لوڈ شیڈنگ نہیں بلکہ ’پیک ریلیف اسٹریٹجی‘ کا حصہ ہے جس کا مقصد پیک آورز میں بجلی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔

مزید پڑھیں:حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں، خصوصاً تجارتی مراکز کو بروقت بند کرنے سے طلب میں مزید کمی لا کر بجلی کے نرخوں میں ممکنہ اضافے کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم