وفاقی آئینی عدالت نے باپ سے پہلے وفات پانے والے بیٹے کے وراثتی حقوق سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض تکنیکی بنیادوں پر کسی بھی وارث کو اس کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے والد عبداللہ خان کی وراثت کو دوبارہ تقسیم کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ اس مقدمے میں حقائق کے مطابق متوفیہ سردار بیگم، جو عبداللہ خان اور فاطمہ بی بی کی بیٹی تھیں، کے وراثتی حقوق کو مدنظر رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی آئینی عدالت: انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی تشریح سے متعلق مقدمہ، ایف بی آر کی استدعا منظور
عدالتی حکم نامے کے مطابق سردار بیگم کا انتقال 1957 میں ہوا جبکہ ان کے والد عبداللہ خان کا انتقال 1968 میں ہوا۔ وراثت کی تقسیم کا عمل 1969 میں شروع ہوا اور 1989 میں مکمل کیا گیا، تاہم اس دوران سردار بیگم کے ورثاء کو تقسیم کے عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سردار بیگم کے بچوں کو مقدمے میں فریق بنانے کی درخواست منظور کی جاتی ہے اور انہیں بھی وراثتی عمل میں شامل کیا جائے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور ہدایت دی کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کریں۔
یہ بھی پڑھیے: خواتین کو وراثت سے محروم کرنا اسلام کے خلاف ہے، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
عدالت نے مزید کہا کہ وراثتی حقوق کسی بھی صورت صرف تکنیکی بنیادوں پر ختم نہیں کیے جا سکتے اور مکمل انصاف کے تقاضوں کے مطابق دوبارہ تقسیم کی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی۔













