سرگئی لاوروف کا دورہ بیجنگ، روس چین شراکت داری مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ

بدھ 15 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس اور چین نے مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے عالمی و علاقائی امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے مغرب پر بیجنگ اور ماسکو کو محدود کرنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف 2 روزہ سرکاری دورے پر منگل کو چین پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔

ماسکو کے مطابق ان مذاکرات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین بحران سمیت متعدد اہم عالمی و علاقائی امور پر بات چیت کی گئی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، جی 20 اور ایپیک جیسے عالمی فورمز میں مشترکہ تعاون کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے چین، روس، شمالی کوریا اور ایران مل کر کام کررہے ہیں، نیٹو چیف

ملاقات کے ابتدائی مرحلے میں دونوں وزرائے خارجہ نے کہا کہ حالیہ عرصے میں عالمی نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ سرگئی لاروف نے کہا کہ لاطینی امریکا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ بحرانوں کی بڑی وجہ مغربی ممالک کی پالیسیاں ہیں۔

انہوں نے یوکرین جنگ کو ’مصنوعی طور پر پیدا کردہ تنازع‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کا مقصد روس کو اسٹریٹجک طور پر کمزور کرنا ہے۔ ان کے مطابق یورپی ممالک اس تنازع کو استعمال کرتے ہوئے یوریشیا کے مغربی حصے میں ایک نیا جارحانہ اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لاوروف نے مزید کہا کہ یوریشیا کے مشرقی حصے میں بھی تائیوان، جنوبی بحیرۂ چین اور جزیرہ نما کوریا کے گرد ’خطرناک کھیل‘ کھیلے جا رہے ہیں، جن کا مقصد چین اور روس کو محدود کرنا ہے۔

چین نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی پر امریکی پابندیوں کو ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام‘ قرار دیا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود نازک جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں، مذاکرات کو آگے بڑھائیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جلد بحال کی جائے۔

لاوروف کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو شانسز بھی بیجنگ کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیے روس اور چین نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی دعویٰ مبالغہ آرائی قرار دیدیا

چینی وزارت خارجہ کے مطابق صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے باوجود چین اور اسپین کے تعلقات مستحکم رہے ہیں اور دونوں ممالک اصولوں اور انصاف کو اہمیت دیتے ہیں۔

روسی اور چینی وزرائے خارجہ نے 2026 کے لیے باہمی سفارتی رابطوں کا روڈ میپ بھی طے کیا، جسے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ممکنہ دورۂ چین کی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنے ابتدائی کلمات میں لاوروف نے عندیہ دیا کہ رواں سال دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مزید ملاقاتوں کے مواقع موجود ہیں اور ان ملاقاتوں کی تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی تجاوزات کیس، وفاقی آئینی عدالت نے سعید غنی کے خلاف توہین عدالت درخواست سمیت سماعت مقرر کر دی

پیداواری صلاحیت کے باوجود پاکستان میں بجلی کی شدید کمی برقرار

دن میں زیادہ اور بار بار سونا صحت کے لیے نقصان دہ، موت کی جانب پیشقدمی قرار

پی ایس ایل میچ کے دوران عامر سہیل کے کراچی سے متعلق ریمارکس پر ہنگامہ، سوشل میڈیا پر سخت تنقید

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر خدشات

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار