ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران نے چین کو ایک غیر متوقع چیلنج سے دوچار کر دیا ہے، جہاں ہیلیم گیس کی قلت نے سیمی کنڈکٹر صنعت اور طبی شعبے کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
چند ماہ قبل چینی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ ملک کی توانائی میں خود کفالت کی کوششوں کے باوجود ہیلیم گیس کی فراہمی ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ اس کی 83 فیصد سے زائد ضروریات درآمدات پر منحصر ہیں۔
ہیلیم ایک بے رنگ اور بے بو گیس ہے جو سیمی کنڈکٹرز کی تیاری میں درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے، طبی اسکیننگ مشینوں کو ٹھنڈا رکھنے، پائپ لائنز کی جانچ اور خلائی راکٹ کے ایندھن کے ٹینکوں میں دباؤ برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے چین کا امریکا پر جوابی وار، کمپیوٹر چپ کے اہم مٹیریل کی برآمدات محدود کردیں
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے ان خدشات کو حقیقت میں بدل دیا ہے، اور چین کو کئی دہائیوں کے بدترین ہیلیم بحران کا سامنا ہے، جہاں قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں اور سپلائی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل ہو گئی تو چپ فیکٹریوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور طبی شعبے میں اہم اسکیننگ سروسز میں تاخیر پیدا ہو سکتی ہے، جس کے اثرات الیکٹرانکس، گاڑیوں اور دیگر صنعتوں تک پھیل سکتے ہیں۔
یہ بحران اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب امریکا نے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جبکہ قطر میں ہیلیم کی پیداوار بھی متاثر ہوئی، جو دنیا کی ایک تہائی اور چین کی 54 فیصد ضروریات پوری کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث عالمی سپلائی چین کو معمول پر آنے میں برسوں لگ سکتے ہیں، جبکہ چین کے اندر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
چین میں صنعتی استعمال کے لیے اعلیٰ معیار کے ہیلیم کی قیمتیں گزشتہ ایک ماہ میں دوگنی ہو چکی ہیں۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سپلائرز ذخیرہ روک رہے ہیں جبکہ خریدار زیادہ قیمت ادا کر کے بھی گیس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چین میں ہیلیم کے ایک تاجر کے مطابق مارچ کے آغاز میں فی مکعب میٹر قیمت 76 یوآن تھی، جو اب بڑھ کر 170 یوآن تک پہنچ چکی ہے۔
ایشیا بھر میں اس قلت کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تائیوان نے حکومت سے ہیلیم ذخیرہ کرنے کی اپیل کی ہے، جبکہ جاپان میں کمپنیاں فروخت محدود کر رہی ہیں۔ جنوبی کوریا اور تائیوان نے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے قومی سلامتی خدشات: ٹرمپ انتظامیہ نے چِپ ڈیل روک دی، چینی روابط پر اعتراض
دنیا میں ہیلیم کے بڑے سپلائرز میں امریکا، قطر اور روس شامل ہیں، تاہم چین نے امریکا پر انحصار کم کرتے ہوئے روس سے درآمدات بڑھا دی ہیں۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ روس، قطر کی کمی پوری نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی پیداوار طویل المدتی معاہدوں میں بندھی ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بحران چین کو مقامی سطح پر ہیلیم کی پیداوار بڑھانے اور نئے ذخائر تلاش کرنے پر مجبور کرے گا۔ تاہم اس عمل میں ایک سے 2 سال لگ سکتے ہیں کیونکہ موجودہ پیداوار ملک کی مجموعی ضرورت کا صرف چھٹا حصہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران چین کو اپنی سپلائی چین کو مزید محفوظ اور مستحکم بنانے کی نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کرے گا۔














