برطانیہ میں ہونے والے برٹش پائی ایوارڈز کی 18 سالہ تاریخ میں پہلی بار سموسوں کو مقابلے میں شرکت کی اجازت دے دی گئی ہے، جس کے بعد کھانوں کے شوقین افراد کے درمیان یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا سموسہ واقعی پائی کہلانے کا اہل ہے یا نہیں۔
یہ فیصلہ مقابلے کی اس سرکاری تعریف کے بعد کیا گیا، جس کے مطابق پائی وہ ڈش ہے جس میں فلنگ مکمل طور پر پیسٹری میں لپٹی ہو اور اسے بیک کیا گیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سموسے کا عالمی دن اور اسلام آباد کا مشہور بنگالی سموسہ اسٹال
منتظمین کے مطابق سموسہ اس تعریف پر پورا اترتا ہے، اس لیے اسے مقابلے میں شامل کرنے کی اجازت دی گئی۔
یہ ایوارڈز ہر سال انگلینڈ کے شہر میلٹن موبری میں منعقد ہوتے ہیں، جسے ’دیہی خوراک کا دارالحکومت‘ بھی کہا جاتا ہے۔
We all love a samosa – but is it a pie?
For the first time ever they've been entered into the British Pie Awards in Melton Mowbray.
Sounds like the classic question- is a #VegBiryani a biryani?https://t.co/VbFSf7JBhu
— SANJAY HEGDE (@sanjayuvacha) March 19, 2026
اس تقریب کا انعقاد میلٹن موبرے پورک پائی ایسوسی ایشن کرتی ہے، اور 2009 سے یہ ایوارڈز میٹھے اور نمکین پائی کی مختلف اقسام میں بہترین کارکردگی کو سراہتے آ رہے ہیں۔
برطانیہ میں پائی ایک نہایت مقبول غذا ہے اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں کھائی جاتی ہے۔
چاہے گرم پیش کی جائے یا ٹھنڈی، میٹھی ہو یا نمکین، یہ برطانیہ میں خوراک سے وابستہ ثقافت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں:یہ سموسہ پاگل ہے یا اس کا بیچنے والا؟
اس سال سموسوں کی شمولیت نے ایک دلچسپ سوال کو جنم دیا ہے: کیا سموسہ واقعی پائی ہے؟ کچھ ماہرین کے مطابق اس کا جواب ہاں ہے۔
ان کی دلیل ہے کہ سموسہ مکمل طور پر پیسٹری میں بند ہوتا ہے، جو مقابلے کے معیار پر پورا اترتا ہے۔
قواعد کے مطابق پائی وہ ڈش ہے جس میں فلنگ مکمل طور پر پیسٹری میں لپٹی ہو۔
مزید پڑھیں: ’ڈاکٹر سموسہ ایک منٹ کا 30 ہزار‘، ڈاکٹر عفان پر تنقید کیوں ہورہی ہے؟
عام طور پر پائی ایک بیک کی گئی ڈش ہوتی ہے جس میں پیسٹری کی تہہ کے اندر میٹھی یا نمکین فلنگ ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، سموسہ باریک آٹے کی تہہ میں لپٹا ہوتا ہے، جس میں عموماً مصالحے دار آلو یا دیگر اجزا بھرے جاتے ہیں، اور اسے تلا جاتا ہے۔
اسی مماثلت کی بنیاد پر حامیوں کا کہنا ہے کہ سموسہ تکنیکی طور پر پائی کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔
سموسے کی تاریخ
اگرچہ آج سموسہ برصغیر کی پہچان بن چکا ہے، مگر اس کی ابتدا یہاں نہیں ہوئی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق اس کی جڑیں 10ویں صدی کے مشرقِ وسطیٰ میں ملتی ہیں۔
ایرانی مورخ ابوالفضل بیہقی کی کتاب ’تاریخ بیہقی‘ میں ’سنبوسہ‘ نامی ایک ملتی جلتی غذا کا ذکر ملتا ہے، جو سفر کے دوران آسانی سے لے جائی جا سکتی تھی۔
وقت کے ساتھ یہ ڈش مختلف خطوں میں پھیلتی گئی اور آج کے مثلثی شکل والے سموسے میں تبدیل ہو گئی، جس میں مصالحے دار آلو یا دیگر اجزا بھرے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: آغا خانی سموسے، نوازشریف اور عمران خان کی یکساں پسند
برصغیر میں اس کی کئی اقسام تیار کی گئی ہیں، جیسے چکن، قیمہ، انڈہ اور پنیر سموسہ، بلکہ جدید تجربات میں ’ڈوسا سموسہ‘ بھی شامل ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ فیصلہ قواعد کے مطابق کیا گیا ہے۔ چونکہ سموسہ تکنیکی طور پر مکمل طور پر پیسٹری میں بند فلنگ پر مشتمل ہے، اس لیے اسے مقابلے میں شامل کیا گیا۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ججز اور روایتی پائی کے حامی سموسے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، تاہم اس کی شرکت نے برطانوی کھانوں میں پائی کی تعریف پر ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔














