آئی ایم ایف کا پاکستان کو ایندھن سبسڈی ختم، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کا مشورہ

بدھ 15 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے مالیاتی خسارے کے جاری مالی سال میں 3.2 فیصد جی ڈی پی رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے حکومت کو مہنگے ایندھن سبسڈیز ختم کرنے، ممکنہ مالی ذمہ داریوں کو کم کرنے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ درمیانی مدت میں معیشت کو پائیدار بنایا جا سکے۔

آئی ایم ایف کی سال میں 2 مرتبہ جاری ہونے والی فسکل مانیٹر رپورٹ 2026 کے مطابق پاکستان کی آمدن نے اپنی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے اور آئندہ برسوں میں اس میں معمولی کمی یا استحکام متوقع ہے۔

تاہم یہ سطح اب بھی مالیاتی ذمہ داری و قرض حدود ایکٹ کے اہداف سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی حکمت عملی پر آئی ایم ایف کا خراج تحسین، پاکستان معاشی استحکام کے کتنا قریب؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا مالیاتی خسارہ مالی سال 2025 میں 5.4 فیصد تھا جو کم ہو کر 2026 اور 2027 میں 3.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

بعد ازاں یہ 2028 میں 3 فیصد اور 2029 میں 2.8 فیصد تک کم ہو سکتا ہے، تاہم 2030 میں دوبارہ بڑھ کر 3.6 فیصد اور 2031 میں 4.6 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا بنیادی مالیاتی سرپلس اس سال 2.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جو گزشتہ سال 2.4 فیصد تھا۔

مزید پڑھیں:  کیا آئی ایم ایف پاکستان کے سیاسی اور قانونی معاملات پر بات کرسکتا ہے؟

لیکن آئندہ برسوں میں یہ بتدریج کم ہو کر 2030 میں 1 فیصد اور 2031 میں تقریباً ختم ہونے کے قریب 0.1 فیصد رہ جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتی آمدن جی ڈی پی کے 15.8 فیصد پر مستحکم ہے لیکن آئندہ سال یہ 15.3 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

جبکہ اخراجات 2026 میں کم ہو کر 19 فیصد اور بعد میں 18.5 فیصد تک آ سکتے ہیں، تاہم 2031 تک دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کی جانب سے جاری 1.2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں منتقل

قرضوں کے حوالے سے آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض 70.1 فیصد جی ڈی پی تک رہنے کا امکان ہے جو بعد میں بتدریج کم ہو کر 2031 تک 58.2 فیصد تک آ سکتا ہے۔

اسی طرح نیٹ قرض بھی 66.5 فیصد سے کم ہو کر 55 فیصد تک گرنے کی توقع ہے۔

عالمی سطح پر آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، مہنگائی کے دباؤ، مالیاتی سختیوں اور مارکیٹ عدم استحکام کے باعث عالمی مالی نظام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے ترقی پذیر ممالک پر دباؤ بڑھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی تجاوزات کیس، وفاقی آئینی عدالت نے سعید غنی کے خلاف توہین عدالت درخواست سمیت سماعت مقرر کر دی

پیداواری صلاحیت کے باوجود پاکستان میں بجلی کی شدید کمی برقرار

دن میں زیادہ اور بار بار سونا صحت کے لیے نقصان دہ، موت کی جانب پیشقدمی قرار

پی ایس ایل میچ کے دوران عامر سہیل کے کراچی سے متعلق ریمارکس پر ہنگامہ، سوشل میڈیا پر سخت تنقید

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر خدشات

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار