سپریم کورٹ نے والد کی جانب سے زندگی میں ایک بیٹے کو ہبہ کیے گئے پلاٹ کے کیس میں دوسرے بیٹے کو بھی حصہ دینے کا حکم دے دیا۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کا پی آئی اے کو 24 سالہ بقایا پینشن ادا کرنے کا حکم
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت بتایا گیا کہ 1969 میں محمد بوٹا نے اپنے ایک بیٹے محمد حسین کو پلاٹ بطور ہبہ دیا تھا، جبکہ 31 سال بعد دوسرے بیٹے محمد نذر نے سال 2000 میں اس کے خلاف دعویٰ دائر کیا۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ محمد بوٹا کے 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں تھیں، تاہم پلاٹ صرف ایک بیٹے کے نام کیا گیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ دعویٰ کرنے والے کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ واقعی اسے پلاٹ دیا گیا تھا۔
درخواست گزار محمد حسین کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ دوسرے بیٹے نے جرح کے دوران ہبہ کو تسلیم کیا ہے، تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ صرف جرح میں تسلیم کرنا کافی نہیں، قانون کے مطابق دعویٰ کو باقاعدہ ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں:اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کو زمین کی منتقلی غیرقانونی قرار، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری
عدالت نے قرار دیا کہ ایسے معاملات میں تمام فریقین کے حقوق کو مدنظر رکھا جاتا ہے، اور اسی بنیاد پر دوسرے بیٹے کو بھی پلاٹ میں حصہ دینے کا حکم جاری کیا گیا۔














