سپریم کورٹ کا پی آئی اے کو 24 سالہ بقایا پینشن ادا کرنے کا حکم

بدھ 15 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو اپنے ایک سابق ملازم 24 سال کی بقایا پنشن ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے مینجنگ ڈائریکٹر پی آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب بھی کرلیا ہے۔

پی آئی اے کے سابق ملازم مصطفیٰ انصاری کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں 2002 میں ایک اسکیم کے تحت ریٹائر کیا گیا، تاہم مکمل پینشن اور گزشتہ 24 برس کے بقایاجات ادا نہیں کیے گئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت پینشن اور دیگر مراعات فراہم کی جا چکی ہیں، مگر طویل عرصے سے بقایاجات کی ادائیگی نہیں ہو رہی۔

یہ بھی پڑھیں: پلاسٹک سرجن کڈنی ٹرانسپلانٹ کیسے کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ میں غیرقانونی ٹرانسپلانٹ کیس کی سماعت

سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ آیا کوئی ایسا قانون موجود ہے جس کے تحت ملازم کو پینشن ادا نہ کی جائے۔

جس پر وکیل نے مؤقف اپنایا کہ دیگر تمام ملازمین کو پینشن دی جا رہی ہے۔

پی آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پینشن کی ادائیگی سے متعلق ادارے سے ہدایات لینا ہوں گی.

مزید پڑھیں: باپ کے قتل میں ملوث مجرم کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کر دی

جس پر عدالت نے واضح کیا کہ اگر آئندہ سماعت سے قبل پینشن ادا نہ کی گئی تو ایم ڈی پی آئی اے کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوگا۔

کیس کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، مزید سماعت 23 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp