خیبرپختونخوا میں مویشیوں کی انشورنس پالیسی متعارف، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جمعرات 16 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں جنگلی حیات کے تحفظ اور ان کے مارے جانے کے واقعات کو کم کرنے کے لیے گلیات کے مکینوں کے مویشیوں کی انشورنش پالیسی متعارف کرا دی گئی ہے، جس کے تحت تیندوے اور دیگر جنگلی جانوروں کے حملوں میں نقصان کی صورت میں مویشی بانوں کو مالی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

انشورنس اسکیم کا آغاز عالمی ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف اور جوبلی انشورنس نے گلیات کے علاقے میں کیا ہے، جہاں تیندوے اور دیگر جنگلی جانوروں کے حملوں میں مقامی مکینوں کے پالتو مویشی ہلاک ہو جاتے ہیں، جس کے باعث مقامی افراد ان جنگلی جانوروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

مزید پڑھیں: جنگلی حیات کی اہمیت و افادیت اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہم جاری

عالمی ادارے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں مقامی افراد اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جہاں مویشیوں کے نقصانات کے باعث مقامی افراد جنگلی جانوروں کو ہلاک کرتے ہیں۔

ادارے نے اپنی ایک جائزہ رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے، جس کے مطابق ایوبیہ نیشنل پارک، مچھیارہ نیشنل پارک اور خنجراب نیشنل پارک کے اطراف کے علاقوں میں اس طرح کے واقعات سب سے زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف خنجراب نیشنل پارک میں سال 2023 کے دوران مویشیوں پر حملوں کے 499 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2015 سے 2023 کے درمیان مقامی افراد کی کارروائیوں میں 6 برفانی تیندوے مارے گئے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق جنگلی حیات کے تحفظ اور مقامی افراد کے نقصانات کے ازالے کے لیے انشورنس پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت ابتدائی طور پر مویشی کے نقصان پر معاوضہ دیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں پر مالی دباؤ کم ہوگا بلکہ جنگلی حیات کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی حوصلہ شکنی بھی ہو گی۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے اس حوالے سے بتایا کہ انسان اور جنگلی حیات کا تصادم اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ دیہی آبادی کے روزگار کا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

ان کے مطابق یہ بیمہ ماڈل ایک عملی حل فراہم کرتا ہے جو انسانوں اور جنگلی حیات دونوں کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوگا اور اسے ملک کے دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب انشورنس کمپنی کے سربراہ اظفر ارشد کا کہنا ہے کہ ادارہ مالی تحفظ سے بڑھ کر پائیدار اور جامع حل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ان کے مطابق اس شراکت داری کے ذریعے نہ صرف لوگوں کے ذرائع معاش کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ نایاب جنگلی حیات کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں: موسیٰ خیل کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو، جنگلی حیات شدید خطرات سے دو چار

یہ اسکیم مقامی برادریوں اور خیبرپختونخوا محکمہ جنگلی حیات کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔ بیمہ پالیسی کے تحت جانوروں کی نشان دہی اور ریکارڈ جمع کرنے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے تاکہ نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جا سکے۔ منصوبے کے نفاذ کے لیے دیہی تحفظ کمیٹی اور پارک تحفظ کمیٹی بھی کردار ادا کریں گی۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق اس ماڈل کو مستقبل میں پاکستان کے دیگر ایسے علاقوں تک توسیع دی جائے گی جہاں تیندوے اور برفانی تیندوے جیسے شکاری جانور مویشیوں کے قریب آتے ہیں اور تصادم کے واقعات پیش آتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی