سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب عجیب و غریب ڈیپ فیک میمز نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں انہیں کبھی مذہبی، کبھی فلمی اور کبھی طاقتور کرداروں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف مذاق نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے سیاسی بیانیے کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، جو عوامی رائے کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’جے ڈی وینس پاکستان آتے ہی کوئٹہ ہوٹل پہنچ گئے‘، سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار
سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایسے متعدد مصنوعی (ڈیپ فیک) تصاویر اور ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف غیر حقیقی کرداروں میں دکھایا گیا ہے، جیسے کہ مذہبی شخصیات، فلمی ہیروز، یا طاقتور خیالی کردار۔
ان تصاویر میں انہیں کبھی جنگجو، کبھی سپر ہیرو اور کبھی روحانی حیثیت میں پیش کیا گیا، جس نے نہ صرف توجہ حاصل کی بلکہ تنقید کو بھی جنم دیا، خصوصاً جب ایک تصویر میں انہیں مذہبی انداز میں دکھایا گیا جسے بعد میں حذف بھی کر دیا گیا۔

ماہرین کے مطابق یہ ڈیپ فیک مواد دراصل جدید دور کی بصری زبان ہے، جس کے ذریعے بغیر براہِ راست کچھ کہے خیالات اور پیغامات عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے میمز لوگوں کے ذہنوں پر بتدریج اثر انداز ہوتے ہیں، چاہے وہ بظاہر مزاحیہ یا غیر سنجیدہ کیوں نہ لگیں۔
Trump and his cartoon character AI generated memes of US biggest weapons F-35 stealth fighter jets simultaneously memes of US pic.twitter.com/36qhMtMvAk
— Shogri (@shogri786) April 10, 2026
تحقیقی اداروں کے مطابق ڈیپ فیک مواد کی کئی اقسام ہیں، جن میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو کسی شخصیت کو بہتر یا زیادہ طاقتور دکھاتے ہیں، جبکہ بعض مخالفین کو ہدف بنانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ کچھ تصاویر واضح طور پر غیر حقیقی ہوتی ہیں اور صرف طنز یا حمایت کے اظہار کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، لیکن ان کا مجموعی اثر عوامی سوچ پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ کلچر اور میمز کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ انہیں اپنے حق میں استعمال بھی کرتے ہیں۔ ان کے حامی انہیں ایک عام انسان کے ساتھ ساتھ ایک غیر معمولی اور طاقتور شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس سے ان کے حامیوں میں جوش اور وابستگی بڑھتی ہے۔
This AI-GENERATED videos about Donald Trump are getting better and better 👀 pic.twitter.com/Q4X35Ieke9
— PolitMemeAi🔥 (@MemesNoWords) April 13, 2026
ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے سیاست میں سنجیدگی کم ہو رہی ہے اور غلط معلومات یا گمراہ کن تاثر پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ بعض مواقع پر متنازعہ مواد، جیسے نسلی یا مذہبی طور پر حساس تصاویر، کو حذف بھی کیا گیا، لیکن اس کے باوجود یہ مواد تیزی سے پھیل چکا ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ڈیپ فیک میمز محض تفریح نہیں بلکہ جدید سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، جو سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی بیانیے کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔













