امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو لبنان پر حملے کرنے سے روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کھولنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے شکرگزار
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ واشنگٹن لبنان کے ساتھ مل کر حزب اللہ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کام کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا کیوں کہ امریکا نے انہیں ایسا کرنے سے روکا ہے۔ اب بہت ہو چکا!!!” ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا یہ اعلان انہوں نے 10 دن کی جنگ بندی کے بعد کیا‘۔
یہ 10 دن کی جنگ بندی، جو واشنگٹن کی طرف سے اعلان کی گئی ہے، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دشمنی کو روکنے کے لیے ہے حالانکہ حزب اللہ اس معاہدے پر دستخط کرنے والی فریق نہیں ہے۔
مزید پڑھیے: مستقل بنیادوں پر آبنائے ہرمز کھولنے پر چین مجھ سے خوش ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
یہ جنگ بندی ایک وسیع سفارتی کوشش کا حصہ سمجھی جا رہی ہے جس میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی مشترکہ کوششیں شامل ہیں۔
اس معاہدے کے باوجود، میدان جنگ میں کشیدگیاں برقرار ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کو سفارتی کوششوں کی حمایت میں قبول کیا ہے لیکن ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی افواج جنوبی لبنان میں تعینات رہیں گی۔
"The U.S.A. will get all Nuclear “Dust,” created by our great B2 Bombers – No money will exchange hands in any way, shape, or form." pic.twitter.com/vkRVe30AzT
— The White House (@WhiteHouse) April 17, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کی سرحد کے قریب ایک بفر زون قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے جس کا دائرہ تقریباً 10 کلومیٹر تک ہوگا۔
وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے بھی کہا کہ حزب اللہ کے خلاف مہم ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو ملک کے جنگ زدہ جنوبی علاقے میں واپس جانے والے افراد کو دوبارہ نقل مکانی کرنا پڑے گا۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کے 3 بڑوں نے کتنے ہزار کلومیٹر سفر کیا؟
کاتز نے کہا کہ لبنان میں زمینی کارروائی اور حزب اللہ پر حملوں سے اسرائیل کو کئی کامیابیاں ملی ہیں لیکن ہمارے مقاصد کی تکمیل ابھی نہیں ہوئی ہے۔














