جیسا کہ بڑے زبان ماڈلز بشمول چیٹ جی پی ٹی، گوگل جمنی اور کلاڈ نے ذہنی کاموں پر قابو پانا شروع کیا ہے ویسے ہی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بھی بجادی ہے۔
محققین خبردار کر رہے ہیں کہ اس ’ذہنی آؤٹ سورسنگ‘ کی ایک قیمت بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت کبھی حقیقی شعور حاصل کر سکتی ہے، جواب جاننے کے لیے گوگل کا اہم اقدام
میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب لوگ زیادہ تر اپنی سوچ کو چیٹ بوٹس جیسے اے آئی ٹولز پر منحصر کرتے ہیں تو ان کی یادداشت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایم آئی ٹی کی محقق نتالیا کوسمائنا نے اس موضوع پر تحقیق کرتے ہوئے محسوس کیا کہ جب انٹرنشپ کے لیے درخواستیں آئیں تو اکثر کور لیٹرز میں حیرت انگیز مماثلت نظر آئی۔ یہ خط زیادہ تر چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی ٹولز سے لکھے گئے تھے۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کی آزادی اظہار رائے پر پابندی کیوں؟ عدالت میں مقدمہ دائر
انہوں نے مزید تحقیق کی تو یہ معلوم ہوا کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے طلبہ کی یادداشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور وہ مواد کو پہلے کی نسبت زیادہ جلدی بھولنے لگے ہیں۔
اس تحقیق کے دوران جن طلبہ نے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا ان کے دماغ کی سرگرمی 55 فیصد تک کم ہوگئی جس کا مطلب تھا کہ ان کی تخلیقی صلاحیت اور معلومات کی پروسیسنگ میں واضح کمی آئی۔
مزید پڑھیں: امریکی طلبا کی اکثریت ہفتے میں کم از کم ایک بار مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتی ہے، سروے
یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر ہم اے آئی پر بہت زیادہ انحصار کریں گے تو ہماری ذہنی صلاحیتوں پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔














