پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر سری لنکن آل راؤنڈر داسن شناکا پر ایک سال کی پابندی عائد کر دی ہے، جس کے باعث وہ پی ایس ایل 2027 کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔
داسن شناکا نے لاہور قلندرز کے ساتھ معاہدہ توڑ کر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں راجستھان رائلز کو جوائن کر لیا تھا، جسے بورڈ نے پلیئر رجسٹریشن اور سہ فریقی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل معاہدہ توڑنے پر بلیسنگ موزاربانی پر 2 سال کی پابندی
بورڈ کے مطابق شناکا کا 21 مارچ 2026 کو ٹورنامنٹ سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونا لیگ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ تھا، اس لیے ان کی معذرت اور افسوس کے باوجود ریگولیٹری کارروائی ناگزیر تھی۔
داسن شناکا پی ایس ایل سے معطل ہونے والے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں، اس سے قبل زمبابوے کے بلیسنگ مزاربانی پر 2 سال اور جنوبی افریقہ کے کوربن بوش پر بھی ایسی ہی پابندی لگائی جاچکی ہے۔
مزاربانی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو چھوڑ کر آئی پی ایل جوائن کیا تھا اور انہیں دی جانے والی سزا اب تک کی سب سے سخت سزا تصور کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جرمانوں سے پابندیوں تک، پی ایس ایل کے پہلے 4 دن کتنے دھماکا خیز رہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ شناکا کو لاہور قلندرز نے 27 ہزار ڈالر میں خریدا تھا، لیکن انہوں نے سیزن شروع ہونے سے قبل ہی ٹیم چھوڑ دی اور سیم کرن کے متبادل کے طور پر تقریباً 2 لاکھ 14 ہزار ڈالر کے بھاری معاہدے پر راجستھان رائلز کا رخ کیا، جہاں وہ تین سال بعد واپس آئے ہیں مگر تاحال بینچ پر ہی بیٹھے ہیں۔
اپنے وضاحتی بیان میں داسن شناکا نے پاکستانی عوام، شائقین اور لاہور قلندرز کے مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل ایک باوقار ٹورنامنٹ ہے اور وہ اپنے عمل سے پیدا ہونے والی مایوسی کو سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب پی سی بی کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے۔ بعض صارفین اسے لاہور قلندرز کے مڈل آرڈر کو نقصان پہنچانے پر درست فیصلہ قرار دے رہے ہیں، وہی چند صارفین کرکٹ شائقین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب مزاربانی پر دو سال کی پابندی لگی تھی تو شناکا کے لیے قانون نرم کیوں رکھا گیا؟
یہ بھی پڑھیں: سابق پی ایس ایل کرکٹر عرفان جونیئر پر گیند سے چھیڑ چھاڑ کے الزام میں 5 میچز کی پابندی
صارفین کا مطالبہ ہے کہ لیگ کے وقار کی خاطر ایسے کھلاڑیوں پر کم از کم 3 سال کی پابندی لگنی چاہیے۔













