امریکا ایران کشیدگی نے عالمی معیشت اور کرنسی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس طرح کے جغرافیائی و سیاسی بحرانوں میں ڈالر کی قیمت کا تعین کرنا صرف ایک پہلو نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے سپلائی چین اور عالمی اعتماد جیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ایران امریکہ جنگ اور ابنائے ہرمز کی بندش کے بعد ڈالر کچھ کمی کے بعد 278.77 روپے پر موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا امریکی ڈالر پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟
تاریخی طور پر جب بھی مشرق وسطیٰ میں جنگ چھڑتی ہے، سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہ کے طور پر ڈالر کا رخ کرتے ہیں، جس سے اس کی قیمت عارضی طور پر بڑھتی ہے۔ یہی وجہ بتائی جا رہی ہے کہ مارچ 2026 کے اوائل میں جب آبنائے ہرمز بند ہوئی اور ایران کے ساتھ جنگی حالات پیدا ہوئے، تو ڈالر انڈیکس میں 0.3 فیصد سے 0.5 فیصد تک کا معمولی اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے سونا اور ڈالر خریدنا شروع کر دیا تھا۔

تاہم جیسے ہی عالمی تیل کی قیمتیں 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچیں، امریکی معیشت پر مہنگائی اور کساد بازاری کے بادل منڈلانے لگے۔ اس خوف سے کہ امریکا طویل جنگ میں پھنس جائے گا، ڈالر پر دباؤ بڑھا اور یہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی حالیہ بلندیوں سے نیچے گرا۔
معاشی ماہر شہریار بٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ اس کی طویل بندش کا مطلب ہے کہ امریکا میں گیس کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے اوپر جا سکتی ہیں، جس سے ڈالر کی مقامی قوت خرید کم ہوگی اور فیڈرل ریزرو کے لیے شرح سود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ چین جیسا بڑا خریدار جو اپنا 60 فیصد سے زیادہ تیل مشرق وسطیٰ سے لیتا ہے اب ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں تجارت کو ترجیح دے رہا ہے، اگر یہ جنگ طویل ہوئی تو ڈالر کی عالمی اجارہ داری کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ترسیلات زر کا بڑا ریکارڈ، پہلی مرتبہ 4 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی
شہریار بٹ کے مطابق آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ کشیدگی ختم نہ ہوئی تو 2026 کے آخر تک دنیا ایک بڑی معاشی مندی کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ڈالر کی قدر گرنے کے بجائے بڑھ بھی سکتی ہے کیونکہ بحران کے وقت لوگ نقد رقم کو ڈالر کی صورت میں بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈالر ابھی تک مکمل طور پر کریش نہیں ہوا، لیکن اس کی ساکھ اور استحکام خطرے میں ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کی بندش مزید چند ہفتے برقرار رہی، تو امریکی معیشت میں مہنگائی کا نیا طوفان ڈالر کو عالمی منڈی میں کمزور کر سکتا ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق ڈالر کی اجارہ داری ختم ہونے والی ہے اور حالیہ کشیدگی نے امریکا کا خوف ختم کر دیا ہے، مشرق وسطیٰ میں بہت تبدیلی آنے والی ہے اور معیشت ساری وسطی ایشیا میں منتقل ہونی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں یورو اپنا وہ مقام حاصل نہیں کر پایا نہ ہی، اس میں اتنی تجارت ہوتی ہے، سب سے زیادہ تجارت اس وقت چین کررہا ہے اور وہ بھی اپنی کرنسی میں اس وقت مستقبل یوآن کا نظر آتا ہے، جہاں دنیا بھر میں 95 فیصد ایل سیز ڈالر میں ہوتی تھیں اب کم ہو کر 57 فیصد پر آگئی ہیں، اب اگر ہر ملک اپنی کرنسی یا یوآن میں تجارت شروع کردے تو یوآن میں ایل سیز بنیں گی جس سے ڈالر کی ایل سیز 50 فیصد سے بھی نیچے آجائے گی اور یوں ڈالر بہت نیچے آجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی، پاکستان نے یورو بانڈ کا حجم بڑھا کر 75 کروڑ ڈالر کردیا
سیکریٹری ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ روبل اور یوآن ڈالر کے مقابلے میں مستحکم کرنسیاں نہیں ہیں ان میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا ہے حالیہ ایران امریکا کشیدگی کے بعد چینی یوآن ایک مضبوط کرنسی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے کیوں کہ چین اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے جہاں پوری دنیا کو معاشی چیلنجز درپیش ہیں وہیں چین پر اعتماد انداز میں بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے اب امریکی ڈالر کے لیے ایک بڑا چیلنج چینی کرنسی اس لیے ہے کہ یوآن تجارت کے لیے ڈالر کے مقابلے میں متحرک ہے، امریکا کو ہر صورت اس جنگ سے نکلنا ہوگا بصورت دیگر وہ دن قریب ہے کہ ڈالر کی اجاری داری ختم ہو چکی ہوگی۔













