برطانیہ میں حکومت نے ایک تاریخی اقدام کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے سگریٹ نوشی پر پابندی سے متعلق بل کی منظوری کے بعد ملک کی پہلی ‘سگریٹ فری نسل’ بنانے کی جانب قدم بڑھا دیا ہے۔
حکومتی منصوبے کے مطابق جو افراد یکم جنوری 2009 کے بعد پیدا ہوئے ہیں، وہ مستقبل میں سگریٹ اور تمباکو مصنوعات خریدنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ یہ قانون ‘ٹوبیکو اینڈ ویپز بل’ کے تحت لایا جا رہا ہے، جو اب شاہی منظوری (رائل اسسنٹ) کے بعد نافذ العمل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ میں نئی نسل پر سگریٹ نوشی کی پابندی کی تیاری مکمل
یہ تجویز پہلی بار 2024 میں پیش کی گئی تھی، جس کے بعد اب برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا نے اس کے حتمی مسودے پر اتفاق کر لیا ہے۔
برطانیہ میں سگریٹ نوشی ہر سال تقریباً 80 ہزار اموات کا سبب بنتی ہے، جبکہ اس سے دل کے امراض، فالج، ذیابیطس، دمہ، ڈیمنشیا اور حتیٰ کہ مردہ بچوں کی پیدائش جیسے سنگین خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سگریٹ نوشی صحت کے نظام پر بھی بھاری بوجھ ڈالتی ہے اور نیشنل ہیلتھ سروس کو سالانہ تقریباً 3.1 ارب پاؤنڈ کا خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہر ماہ تقریباً 75 ہزار جی پی اپوائنٹمنٹس کا سبب بھی بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ای سگریٹس: سگریٹ نوشی چھوڑنے میں مددگار مگر مضر صحت قرار
اس قانون کے تحت حکومت کو تمباکو، ویپنگ اور نکوٹین مصنوعات کے ضابطے سخت کرنے کے نئے اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں ذائقوں (فلیورز)، پیکجنگ اور سگریٹ نوشی سے پاک مقامات سے متعلق قواعد شامل ہوں گے۔
برطانیہ اس قانون کے نفاذ کے بعد دنیا کا دوسرا ملک ہوگا جس نے نسل کی بنیاد پر تمباکو نوشی پر پابندی عائد کی ہے۔ اس سے قبل مالدیپ نے بھی 2006 کے بعد پیدا ہونے والی نسل کے لیے سگریٹ نوشی پر پابندی لگائی تھی۔














