پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہونے کے باوجود بھارت میں سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ناکامیوں پر سوالات برقرار ہیں۔ بھارتی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے مطابق واقعے کے بعد بھی ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کوئی واضح کارروائی نہ ہونے پر حکومت کی جوابدہی پر سنجیدہ تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔
بھارتی شہر نئی دہلی میں پیش آنے والے پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، جس کے بعد ایک بار پھر بھارتی سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد سے اب تک ان اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جنہیں سیکیورٹی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ اس صورتحال نے ملک میں احتساب اور جوابدہی کے نظام پر بحث کو دوبارہ جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پہلگام واقعہ: ایک سال بعد بھارت شواہد پیش نہ کرسکا، عطااللہ تارڑ
بھارتی جریدے ’دی ٹریبیون‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے ایک سال بعد بھی سیکیورٹی ناکامیوں سے متعلق خدشات برقرار ہیں اور حکومت کی جانب سے کوئی واضح انتظامی یا تادیبی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد ہونے والی آل پارٹیز میٹنگ میں بھی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی میں سنگین خامیوں کا اعتراف کیا گیا تھا، تاہم عملی اقدامات کا فقدان دیکھا گیا۔
بھارتی میڈیا میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پہلگام واقعہ ان کئی واقعات میں سے ایک ہے جن میں ماضی میں بھی سیکیورٹی ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی، تاہم اکثر صورتوں میں ذمہ داری کے تعین کے بجائے سیاسی بیانیہ اپنایا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پہلگام، پلوامہ، اڑی اور چھتیس گڑھ جیسے واقعات میں بار بار ایک ہی نوعیت کی خامیاں سامنے آتی رہی ہیں، لیکن ان پر مؤثر احتساب نہ ہونے سے نظام کی کمزوریاں مزید نمایاں ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی اداکارہ نے پہلگام حملے کو بھارت کی سازش قرار دےدیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہونا نہ صرف ادارہ جاتی جوابدہی پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی سنجیدہ چیلنج پیدا کرتا ہے۔














