سپریم کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران اہم قانونی سوال اٹھایا ہے کہ اگر کسی ملازم کی غیر حاضری کو بعد میں قانونی طور پر چھٹی میں تبدیل کر دیا جائے تو کیا اس کی بنیاد پر برطرفی برقرار رہ سکتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے وفاقی حکومت کے متضاد مؤقف پر سخت حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کیس دوبارہ ٹربیونل کو بھجوا دیا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے وزارتِ تجارت کے ملازم ارسلان احمد کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کیس نئے سرے سے فیصلے کے لیے واپس بھیج دیا۔ سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ فریقین کو سن کر تین ماہ کے اندر دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ فعال، ایک ہی روز میں 122 مقدمات نمٹا دیے گئے
عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ملازم کو برطرف ہی کرنا ہے تو اس کی غیر حاضری کو بعد میں چھٹی میں تبدیل کرنے کی کیا منطق ہے؟ سپریم کورٹ نے کہا کہ رول آف لا کے تحت غیر حاضری کو ماضی سے لاگو چھٹی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، اس لیے اس معاملے کا قانونی طور پر دوبارہ جائزہ ضروری ہے۔
درخواست گزار ارسلان احمد کو ڈیوٹی سے غیر حاضری کی بنیاد پر سروس سے برطرف کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ان کی اہلیہ کی شدید علالت اور کورونا کے باعث پروازوں کی بندش کی وجہ سے وہ بروقت ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو سکے تھے، جس کے باعث ان کے خلاف یکطرفہ تادیبی کارروائی کی گئی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق بعد ازاں ان کی غیر حاضری کے دورانیے کو بغیر تنخواہ کی چھٹی میں تبدیل بھی کر دیا گیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جب غیر حاضری کو باقاعدہ چھٹی میں ریگولرائز کر دیا گیا تو برطرفی کا جواز باقی نہیں رہتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت کے متضاد بیانات پر بھی حیرانی کا اظہار کیا۔ حکومت نے ٹربیونل میں ایک مؤقف اپنایا کہ غیر حاضری کو چھٹی میں بدلنا ڈپٹی سیکریٹری کی غلطی تھی، جبکہ عدالت میں یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ تبدیلی سیکریٹری کامرس کی منظوری سے کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:ملک میں ای-جوڈیشری کا آغاز، سپریم کورٹ نے نظام جدید بنا دیا
عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کے دونوں بیانات ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں، اس لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کس مؤقف پر یقین کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کیس کو دوبارہ ٹربیونل بھیجتے ہوئے واضح قانونی فیصلے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔













