ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران امریکا جنگ کے بعد سے جاری ایک قیاس آرائی نے اس وقت دم توڑ دیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے پاس وقت کم بچا ہے، معاہدہ ہماری شرائط پر ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اسے کسی بھی ملک کے لیے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔

ایک صحافی کے اس سوال پر کہ آیا وہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کریں گے امریکی صدر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس کی کیا ضرورت ہے اور ایسا بے وقوفانہ سوال کیوں پوچھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم نے روایتی طریقے سے ہی انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے تو میں جوہری ہتھیار کیوں استعمال کروں؟

انہوں نے کہا ’نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا۔ جوہری ہتھیار کسی کو بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘

ان کا کہنا تھا کہ روایتی عسکری طاقت کے ذریعے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد بازی کے بجائے ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو دیرپا اور مستحکم ہو۔ ان کے مطابق فوری معاہدہ کرنا ممکن ہے تاہم ترجیح ایک پائیدار حل کو دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیے: اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ طویل المدتی امن کے لیے وقت لگ سکتا ہے اور اس حوالے سے کسی دباؤ میں آکر فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے جس میں اس کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی فوج مختصر وقت میں مزید کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

’ایران کو کچھ مہلت دینا چاہتا تھا اس لیے جنگ بندی بڑھائی

ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں تعطل کے باوجود جنگ بندی میں توسیع کے فیصلے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو اپنے اندرونی مسائل حل کرنے کے لیے کچھ مہلت دینا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو جہنم کا گڑھا قرار دے دیا، مودی حکومت کی عالمی سطح پر سبکی

ان کا کہنا تھا کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ان سے بات کر رہے ہیں لیکن انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ ملک کی قیادت کون کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں ایک افراتفری ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں اندرونی اختلافات کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں نہ کوئی سخت گیر ہے اور نہ کوئی اعتدال پسند بلکہ ہم سب ایرانی اور انقلابی ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا: ’چند روز اور۔۔۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں کہ امریکی عوام کو جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں کا سامنا کب تک کرنا پڑے گا، ٹرمپ نے کہا کہ ’کچھ عرصے تک‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اور اس کے بدلے انہیں (امریکی عوام) کیا ملے گا؟ ایک ایسا ایران جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے جو ہمارے کسی شہر یا پورے مشرق وسطیٰ کو تباہ کرنے کی کوشش کر سکتا تھا۔

قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے کسی دباؤ میں نہیں ہیں اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کا فیصلہ صرف امریکا کے مفاد میں کیا جائے گا جس کے کے لیے ایران کے پاس اب وقت کم بچا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ایران نے میری درخواست پر 8 احتجاجی خواتین کو پھانسی نہ دینے کا فیصلہ کرلیا، ڈونلڈ ٹرمپ

ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ جو لوگ اب بھی نیو یارک ٹائمز پڑھتے ہیں یا سی این این دیکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے بے چین ہوں وہ غلط ہیں۔

ٹرمپ کے بقول وہ اس پوزیشن میں سب سے کم دباؤ محسوس کرنے والے شخص ہیں اور ان کے پاس وقت ہے جبکہ ایران کے پاس وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے ایک اور بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی کو دیکھتے ہی تباہ کردیا جائے۔

سوشل میڈیا پر ہی جاری بیان میں اس بیان میں انہوں نے کہا کہ میں نے امریکی نیوی کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی بھی کشتی خواہ وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو جو آبنائے ہرمز کے پانیوں میں بارودی سرنگیں بچھائے اسے فوراً نشانہ بنا کر تباہ کر دے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں: ایران کی نجی سطح پر گفتگو عوامی مؤقف سے مختلف، صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی حتمی مدت کا تعین نہیں کیا، ترجمان وائٹ ہاؤس

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے اپنی کارروائیوں میں 3 گنا اضافہ کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ایران کے پاس وقت کم بچا ہے، معاہدہ ہماری شرائط پر ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار