اسلام آباد میں ایک دلچسپ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 1950 کی دہائی کا ایک نایاب 100 روپے کا پرانا نوٹ بنگلہ دیش سے پاکستان لایا گیا، جو دونوں ممالک کے مشترکہ ماضی کی یاد تازہ کر گیا۔
مزید پڑھیں: جرائم میں اچانک اضافہ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا سخت نوٹس، ہنگامی اجلاس طلب
عرب نیوز کے مطابق بنگلہ دیش سے آنے والے نورِ عالم چوہدری اپنی بیٹی کے ہمراہ پاکستان آئے اور یہ نوٹ بطور خاندانی ورثہ اپنے ساتھ لائے۔ بعد ازاں انہوں نے یہ نوٹ ایک پاکستانی مصنف محمد علی اکبر کو اسلام آباد میں ایک ملاقات کے دوران تحفے میں دے دیا۔
یہ نوٹ 1957 میں جاری کیا گیا تھا جس پر انگریزی، اردو اور بنگالی زبانیں درج ہیں اور اس پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر بھی موجود ہے۔ یہ اس دور کی یادگار ہے جب موجودہ بنگلہ دیش، مشرقی پاکستان کا حصہ تھا۔
چوہدری کے مطابق یہ نوٹ دونوں ممالک کے لیے ایک قیمتی یادگار ہے کیونکہ یہ مشترکہ تاریخ کی نمائندگی کرتا ہے۔ دوسری جانب محمد علی اکبر نے بھی اس نوٹ کو ایک علامتی اہمیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کو سمجھ کر ہی مستقبل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:پنجاب اسمبلی: اسپیکر نے زرعی ٹیکس کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیدیا، مریم نواز کے حق میں قرارداد منظور
یہ واقعہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات اور عوامی سطح پر بڑھتی قربت کی ایک خوبصورت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔














