موسمیاتی تبدیلی ‘ایل نینو’ کی وسط 2026 میں فعال ہونے کا امکان، اقوامِ متحدہ کا انتباہ

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں درجہ حرارت کو ریکارڈ سطح تک پہنچانے والا قدرتی موسمیاتی عمل ‘ایل نینو’ رواں سال کے وسط تک دوبارہ فعال ہوسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جمعے کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، بحرالکاہل کے پانیوں میں ہونے والی یہ تبدیلیاں مئی سے جولائی کے دوران شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی درجہ حرارت میں ایک ڈگری کی کمی ثقافتی ورثے کو تباہی سے بچا سکتی ہے، یونیسکو

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے مطابق ابتدائی علامات ایک شدید موسمیاتی لہر کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ ‘ایل نینو’ ایک ایسا فطری عمل ہے جس کے دوران وسطی اور مشرقی بحر الکاہل کی سطح کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ہواؤں کے رخ، فضائی دباؤ اور بارشوں کے پیٹرن میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سال کے آغاز میں موسمی حالات مستحکم رہنے کے بعد اب سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ایل نینو لہر نے سال 2023 اور 2024 کو تاریخ کے گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی علاقوں میں ہیٹ ویو اور گلشیئر پگھلنے سے مارچ تا ستمبر سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے

ادارے کے مطابق اگرچہ اس بات کے براہ راست شواہد نہیں ملے کہ موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) ایل نینو کی فریکوئنسی میں اضافہ کرتی ہے، تاہم یہ اس کے اثرات کو شدید ضرور بنا دیتی ہے۔

گرم ماحول اور سمندروں کی تپش کی وجہ سے ہیٹ ویوز اور غیر معمولی بارشوں جیسے سنگین واقعات کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو عالمی زراعت اور انسانی زندگی کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کرسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp