اسحاق ڈار اور مصر کے وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے میں امن و سفارت کاری پر تبادلہ خیال

ہفتہ 25 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ بدرعبدالعاطی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر بات چیت کی گئی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ رابطہ دیر رات ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری انتہائی ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ کشیدگی میں کمی اور دیرپا امن کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

ترجمان کے مطابق گفتگو میں علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات: عباس عراقچی کی اسلام آباد میں اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، وائٹ ہاؤس کی امریکی وفد آمد کی تصدیق

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں اور مختلف ممالک امن کے فروغ کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی جیلوں میں مبینہ جنسی تشدد بے نقاب، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر تل ابیب سیخ پا

دلجیت دوسانجھ نے انڈیا چھوڑ کر امریکی شہریت حاصل کر لی؟

’بلاول بھٹو کو شازیہ مری سے معذرت کرنی چاہیے‘، پریس کانفرنس کے دوران سخت رویے پر چیئرمین پیپلز پارٹی تنقید کی زد میں

غزہ پالیسی پر تنقید کرنے والی فرانچیسکا البانیز کے حق میں امریکی عدالت کا فیصلہ

68 فیصد پاس ورڈز ایک دن میں ہیک ہو سکتے ہیں، سائبر سیکیورٹی رپورٹ کا انکشاف

ویڈیو

لاہور کے 100 سالہ پرانا اچھرہ بازار کو ماڈل بازار بنا دیا گیا

ترسیلات زر میں اضافہ معیشت کو کتنا بہتر بنا سکتا ہے؟ کراچی کے کاروباری افراد کی آراء

پاک چین اقتصادی تعلقات میں نئی روح: اربوں ڈالرز کے معاہدے اور مشترکہ اکنامک ہیڈ کوارٹر کا قیام

کالم / تجزیہ

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟

زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز

کیا آپ نے چین کے دورے پر موجود ڈونلڈ ٹرمپ کے وفد پر غور کیا ہے؟