ایران جب چاہے بات چیت کے لیے رابطہ کر سکتا ہے، کارڈز اب بھی ہمارے پاس ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

 

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران میں فیصلہ سازی کرنے والی قیادت سے براہِ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں اور تہران جب چاہے رابطہ کر سکتا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایرانی حکام سے ملاقات منگل کو ہوگی، جو ان کے بقول بہت تاخیر کا باعث بنتی۔

مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ بحران: پاکستان کا کردار جنوبی ایشیا سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر نمایاں، امریکی جریدہ

انہوں نے کہاکہ امریکی وفد 15 سے 16 گھنٹے کا طویل سفر صرف اس تاخیر کے لیے نہیں کر سکتا تھا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں اس وقت اندرونی سطح پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور قیادت کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض معاملات میں وہاں قیادت کے لیے کشمکش جاری ہے۔

امریکی صدر نے کہاکہ امریکا کو تجاویز پر مشتمل ایک مسودہ دیا گیا تھا، تاہم جب انہوں نے دورہ منسوخ کیا تو کچھ ہی دیر بعد ایک نیا مسودہ پیش کیا گیا جو پہلے کے مقابلے میں بہتر تھا۔

انہوں نے مزید کہاکہ ایران کی جانب سے کئی پیشکشیں کی گئی ہیں لیکن وہ اب بھی ناکافی ہیں، جبکہ جنگ بندی کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے حالیہ تنازع کے حل میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بہترین شخصیات ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ جب سارے کارڈز ہمارے پاس ہیں تو 18 گھنٹے کا سفر کرکے وہاں جا کر بے مقصد باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

دریں اثنا سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں بھی صدر ٹرمپ نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے دورے کی منسوخی کا اعلان کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ ایرانی قیادت کے اندر شدید اختلافات اور کنفیوژن پائی جاتی ہے اور یہ واضح نہیں کہ اصل میں قیادت کون کررہا ہے، حتیٰ کہ خود انہیں بھی اس بارے میں یقین نہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور غیریقینی صورت حال کا شکار ہے، گزشتہ رات وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ہفتے کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو جائیں گے، تاہم اب ان کا دورہ منسوخ ہوگیا ہے۔

قبل ازیں پاکستان کا دورہ کرنے والے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وفد کے ہمراہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کی۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی آمد پر دونوں رہنماؤں کی ملاقات کا آغاز ہوا، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ شریک تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں موجودہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعظم

بعد ازاں سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہاکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ ملاقات کے دوران موجودہ علاقائی صورتحال پر نہایت خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہاکہ اس موقع پر باہمی دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو ہوئی، جن میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے کیا، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے۔

ایرانی وزیرخارجہ کی اسلام آباد آمد ، سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات ، مزید بتارہے ہیں بلال عباسی اپنی اس رپورٹ میں pic.twitter.com/67FmjO1PC5

قبل ازیں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وفد کو پاکستان کی جانب سے خوش آمدید کہا ہے۔ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے بامقصد ملاقاتوں کے منتظر ہیں۔

دیکھتے ہیں ایران امریکا کو مطمئن کرنے کے لیے کیا پیشکش کرتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران ایک پیشکش تیار کر رہا ہے، تاہم کسی بھی پیشرفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران عملی طور پر کیا پیش کرتا ہے۔

رائٹرز سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پابندیاں یا رکاوٹیں ختم کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ایران کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا پیش کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے یا نہیں۔

اسحاق ڈار اور مصر کے وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ بدرعبدالعاطی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر بات چیت کی گئی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ رابطہ دیر رات ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری انتہائی ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ کشیدگی میں کمی اور دیرپا امن کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

ترجمان کے مطابق گفتگو میں علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات: عباس عراقچی کی اسلام آباد میں اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، وائٹ ہاؤس کی امریکی وفد آمد کی تصدیق

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں اور مختلف ممالک امن کے فروغ کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

غیر مصدقہ خبروں سے گریز کیا جائے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے خطے کی تازہ صورتحال پر ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے علاقائی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اجلاس کے دوران انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہا ہے تاکہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کی راہ مزید ہموار: ٹرمپ کا اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس حوالے سے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

اسحاق ڈار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران امریکا سہولت کاری کے عمل سے متعلق پاکستان کا مؤقف صرف وہی تصور کیا جائے گا جو سرکاری ذرائع سے جاری کیا جائے۔

 مزید پڑھیں: پاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لئے کوششیں جاری

انہوں نے کہا کہ نامعلوم پاکستانی حکام یا ذرائع کے حوالے سے پرنٹ یا سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی معلومات پاکستان کی سرکاری پوزیشن کی عکاسی نہیں کرتیں۔

انہوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو مشورہ دیا کہ قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے اور صرف مستند سرکاری بیانات پر انحصار کیا جائے۔

اسحاق ڈار کا ترک وزیرِ خارجہ سے رابطہ

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاقان فودان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے خطے کی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے ترک ہم منصب کو پاکستان کی جاری سفارتی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل رابطہ، مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد مذاکرات: غیر مصدقہ خبروں سے گریز کیا جائے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جبکہ رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق آج ہی کے روز اس سے قبل سینیٹر اسحاق ڈار کا مصر کے وزیرِ خارجہ سے بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا، جس میں اہم علاقائی امور پر گفتگو کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ فوجی مشق ’شیک ہینڈز II‘ کا تربیلا میں آغاز

شرح سود میں اضافے پر تاجر تنظیمیں مایوس، معاشی بحالی سے متصادم قرار دیدیا

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کردی، صدر ٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

فیلڈ مارشل کو اللہ نے عزت دی، ایسا مقام پاکستان کو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، گورنر پنجاب

سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟