اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتیوں سے متعلق رپورٹ شائع کرنے پر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دے دی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے رپورٹ کو ’جھوٹ اور پروپیگنڈا‘ قرار دیا، جبکہ اخبار نے اسے آزاد صحافت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کہا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ خارجہ گیڈون ساعر کے دفاتر کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے نیویارک ٹائمز کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔
معروف کالم نگار نکولس کرسٹوف کی رپورٹ اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں 14 فلسطینی مردوں اور خواتین کے بیانات پر مبنی ہے، جنہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں اسرائیلی آبادکاروں یا سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی فوجیوں، آبادکاروں، داخلی سکیورٹی ادارے شن بیٹ کے تفتیش کاروں اور خصوصاً جیل اہلکاروں کی جانب سے مردوں، خواتین اور حتیٰ کہ بچوں کے خلاف بھی جنسی تشدد کا ایک منظم رجحان پایا جاتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے اسرائیلی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس ’گہری تحقیق پر مبنی مضمون‘ کے خلاف کسی بھی قانونی دعوے کی کوئی بنیاد نہیں۔ اخبار کی ترجمان ڈینیئل روڈز ہا نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام آزاد صحافت کو دبانے اور ایسی رپورٹنگ کو خاموش کرنے کی کوشش ہے جو مخصوص بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ رپورٹ ’غیر مصدقہ ذرائع‘ پر مبنی ہے، جن کے تعلقات حماس سے وابستہ نیٹ ورکس سے ہیں۔














