سورج نے 7 گھنٹوں کے اندر 2 طاقتور ایکس 2.5 درجے کے شمسی شعلے خارج کیے، جو گزشتہ 78 دنوں میں سب سے شدید شمسی سرگرمی سمجھی جا رہی ہے۔
دونوں دھماکے سورج کے ایک غیر مستحکم سن اسپاٹ ریجن اے آر 4419 سے خارج ہوئے، جو اس وقت سورج کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔
پہلا شمسی شعلہ 23 اپریل کو رات 9:07 بجے اپنے عروج پر پہنچا، جبکہ دوسرا 24 اپریل کو صبح 4:14 بجے ظاہر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: رواں سال کا سب سے طاقتور شمسی دھماکا، عالمی ریڈیو بلیک آؤٹ کا خطرہ
شمسی طبیعیات دان ریان فرنچ کے مطابق، یہ گزشتہ 78 دنوں میں دیکھے گئے سب سے طاقتور شعلے ہیں۔
ان دھماکوں سے خارج ہونے والی شعاعوں نے زمین کے روشن حصے میں شدید ریڈیو بلیک آؤٹس پیدا کیے۔
پہلا بلیک آؤٹ بحرالکاہل اور آسٹریلیا کے کچھ علاقوں میں محسوس کیا گیا، جبکہ دوسرے نے مشرقی ایشیا کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔
Michael Love
⚠️ SPACE WEATHER INTEL ⚠️
A MAJOR X2.4 X-CLASS SOLAR FLARE
JUST FIRED OFF THE SUN
AND IS NOW INBOUND FOR EARTH. ☀️🔥🌍
SPACE WEATHER IS MOVING INTO HIGH GEAR THIS EVENING
AND THE ENERGY IS INTENSIFYING. ⚡✨
BE SURE TO LET US KNOW WHAT ASCENSION SYMPTOMS
YOU MAY BE… pic.twitter.com/O3Z5e5h0dw— Paul White Gold Eagle (@PaulGoldEagle) April 24, 2026
23 اپریل کو ان ایکس درجے کے شعلوں سے قبل درمیانے درجے کے ایم کلاس شمسی شعلوں کی ایک لہر بھی دیکھی گئی، جس کے ساتھ ایک نایاب ‘سمپیتھیٹک فلیئر’ بھی سامنے آیا، جس میں سورج کے 2 مختلف حصوں میں بیک وقت دھماکے ہوئے۔
ماہرین کے مطابق، ان شعلوں کے ممکنہ راستوں کا تجزیہ جاری ہے، اور یہ امکان موجود ہے کہ ان کے اثرات زمین کو جزوی طور پر متاثر کریں۔
ایسی صورت میں جیومقناطیسی طوفان پیدا ہو سکتے ہیں اور آسمان پر خوبصورت قطبی روشنیاں نظر آ سکتی ہیں۔
شمسی شعلے کیا ہوتے ہیں؟
شمسی شعلے سورج پر ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکے ہوتے ہیں، جو روشنی اور توانائی کے شدید اخراج کا سبب بنتے ہیں۔
ان میں ایکس ریز اور بالائے بنفشی شعاعیں شامل ہوتی ہیں جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔
جب یہ شعاعیں زمین تک پہنچتی ہیں تو فضا کی بالائی تہہ یعنی آئنوسفیئر کو متاثر کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں: نظام شمسی سے 3 ارب سال پرانا دمدار ستارہ دریافت
عام حالات میں، طویل فاصلے تک جانے والے ریڈیو سگنلز آئنوسفیئر سے ٹکرا کر واپس زمین کی طرف آتے ہیں۔
لیکن شمسی شعاعوں کے اثر سے یہ نظام متاثر ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ریڈیوسگنلز کمزور پڑ جاتے ہیں اور شارٹ ویو ریڈیو بلیک آؤٹ ہو سکتا ہے۔














