وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے شرائط میں نرمی یا رعایت حاصل نہ ہو سکی تو حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی میں بھاری اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پاسداری ناگزیر ہے، بصورتِ دیگر معیشت کو مزید سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 26روپے 77پیسے اضافہ
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ تاہم، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر عالمی ادارے نے رعایت نہ دی تو اگلے جمعہ تک پیٹرول یا ڈیزل پر 50 سے 55 روپے تک لیوی لگانے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا۔ ا
نہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت دنیا میں سستا ترین ڈیزل پاکستان میں فراہم کیا جا رہا ہے اور ڈیزل پر لیوی صفر ہونے کی وجہ سے اس کا بوجھ پیٹرول پر منتقل کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے تعاون کے بغیر موجودہ معاشی حالات میں نظام چلانا ممکن نہیں ہے، اس لیے معاہدے کی خلاف ورزی کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران جنگ سے مختلف ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں پر کیا اثر پڑا؟
وفاقی وزیر نے سابقہ بحرانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک معاشی مشکلات کا شکار ہوا تو ہمارے پاس اربوں ڈالرز کے اسٹریٹجک ذخائر موجود نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے صوبوں کے ساتھ مل کر 100 ارب روپے کے فنڈز سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار معاشی استحکام کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ علی پرویز ملک نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب پیٹرول کی قیمتوں میں 80 روپے کی کمی کی گئی تو سیاسی مخالفین نے اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے انتہائی کٹھن حالات میں تیل کی دستیابی کو یقینی بنایا اور عوام کو بڑی تکلیف سے بچایا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پیٹرولیم ضروریات میں بڑا انحصار درآمدات پر، مقامی پیداوار محدود
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ علاقائی تعاون کے ذریعے توانائی کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔












