امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ اور بعد ازاں جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث مختلف ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔
عالمی اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے قبل خام تیل کی قیمت قریباً 70 سے 75 ڈالر فی بیرل تھی، جو جنگ کے دوران بڑھ کر 110 سے 115 ڈالر تک جا پہنچی۔ بعد ازاں جنگ بندی کے بعد کچھ کمی ضرور ہوئی اور قیمتیں 90 سے 95 ڈالر فی بیرل تک آ گئیں، تاہم یہ سطح اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: کیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ ہونے والا ہے؟
پاکستان میں جنگ سے قبل پیٹرول کی قیمت قریباً 275 روپے فی لیٹر تھی، جو جنگ کے دوران بڑھ کر ایک موقع پر 458 روپے تک جا پہنچی تھی، جنگ بندی کے بعد قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی اور اب قیمت 366 روپے فی لیٹر ہے، جو اب بھی پہلے کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔
چین میں حکومتی کنٹرول کے باعث قیمتوں میں محدود اضافہ دیکھا گیا۔ جنگ سے پہلے فی لیٹر قیمت قریباً 8.5 یوآن تھی، جو بڑھ کر 9.5 سے 10 یوآن تک گئی، جبکہ اب یہ 9.2 سے 9.4 یوآن کے درمیان ہے۔
بھارت میں جنگ سے قبل پیٹرول کی قیمت 105 بھارتی روپے تھی جو کہ جنگ کے دوران مستحکم رہی، البتہ مختلف اوقات میں پیٹرول کی قلت کا سامنا رہا۔
بنگلہ دیش میں بھی پیٹرول مہنگا ہوا، جہاں قیمت 116 ٹکا فی لیٹر سے بڑھ کر 135 ٹکا تک گئی، اور بعد ازاں کم ہو کر 125 سے 128 ٹکا فی لیٹر پر آگئی، تاہم اب بھی قیمتیں پہلے کی نسبت قریباً 10 فیصد زیادہ ہیں۔
ایران میں حکومتی سبسڈی کے باعث قیمتوں میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی اور پیٹرول قریباً 0.30 سے 0.35 ڈالر فی لیٹر کے درمیان ہی رہا۔
متحدہ عرب امارات (دبئی) میں جنگ کے دوران قیمتیں 3.0 درہم سے بڑھ کر 3.3 سے 3.4 درہم فی لیٹر تک پہنچیں، جبکہ جنگ بندی کے بعد کم ہو کر 3.1 سے 3.2 درہم رہ گئیں، جو اب بھی پہلے سے کچھ زیادہ ہیں۔
آسٹریلیا میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جنگ سے پہلے 1.80 آسٹریلین ڈالر فی لیٹر قیمت بڑھ کر 2.40 سے 2.50 تک گئی، جبکہ اب کم ہو کر 2.10 سے 2.20 ڈالر کے درمیان ہے۔
امریکا میں پیٹرول کی قیمت 3.2 سے 3.4 ڈالر فی گیلن سے بڑھ کر 4 ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، جو اب کم ہو کر 3.7 سے 3.9 ڈالر فی گیلن کے قریب آ چکی ہے۔
یورپی ممالک میں بھی اسی طرح پیٹرول کی قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ معمولی کمی کے باوجود قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔
فلپائن ان ممالک میں سرفہرست رہا جہاں پیٹرول کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔ وہاں پیٹرول کی قیمت 65 پیسو فی لیٹر سے بڑھ کر 100 پیسو تک جا پہنچی، اور اب بھی 90 سے 95 پیسو کے درمیان ہے، جو قریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
امریکا ایران جنگ کے بعد تیل درآمد کرنے والے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک نسبتاً محفوظ رہے۔ جنگ بندی کے باوجود عالمی سطح پر سپلائی مکمل بحال نہ ہونے اور دیگر معاشی عوامل کے باعث قیمتوں میں مکمل استحکام ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔











