امریکی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سالانہ صحافتی عشائیے میں فائرنگ کرنے والے 31 سالہ مشتبہ شخص کول ٹوماس ایلن کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ تفتیشی ادارے اس کے پس منظر، تحریروں اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملے کا محرک معلوم کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق ایلن نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ عبور کرنے کے بعد فائرنگ کی، جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض افراد کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ‘آج رات تقریب میں شاٹس فائر ہوں گی،’ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ٹرمپ کی تقریب میں حملے سے قبل ایسا کیوں کہا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ملزم نے ایک منشور چھوڑا ہے اور وہ اکیلا کارروائی کرنے والا شخص تھا۔
خاندان کے افراد نے میڈیا کو بتایا کہ ایلن گزشتہ کچھ عرصے سے دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے ‘کچھ بڑا کرنے’ کی باتیں کرتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک گروپ سے وابستہ تھا اور حالیہ احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوا تھا۔
سیاسی طور پر اس کی سرگرمیاں محدود تھیں۔ ریکارڈ کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں اس نے صرف ایک مرتبہ 25 ڈالر کا سیاسی عطیہ دیا تھا۔
کول ایلن کو سابق ساتھی طلبا نہایت ذہین اور غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل قرار دیتے ہیں۔ اس نے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے 2017 میں مکینیکل انجینئرنگ میں گریجویشن کیا تھا۔
بعد ازاں اس نے ویڈیو گیم ڈویلپمنٹ میں کام کیا اور پھر کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ وہ خود کو انجینئر، سائنسدان، گیم ڈویلپر اور استاد قرار دیتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی صدر ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ کرنے والا شخص کون تھا؟
ایلن نے جز وقتی طور پر ایک تعلیمی ادارے میں طلبا کو کالج داخلوں کی تیاری کروائی۔ اسے 2024 میں ‘ٹیچر آف دی منتھ’ بھی قرار دیا گیا تھا۔ اس کے شاگردوں نے اسے خاموش مزاج مگر قابل استاد بتایا۔
حکام کے مطابق ایلن نے قانونی طور پر ایک پستول اور ایک شاٹ گن خریدی تھی۔ یہ دونوں ہتھیار واقعے کے بعد برآمد کر لیے گئے۔
فائرنگ کے بعد اسے قابو کر لیا گیا۔ وہ زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں مبینہ طور پر وہ تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا۔ اس کے خلاف اسلحہ استعمال کرنے سمیت متعدد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔














