افغان اور بھارتی میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ پاکستانی طیاروں اور ڈرونز نے مبینہ طور پر افغانستان کے صوبے کنڑ میں واقع کنڑ یونیورسٹی اور اس کے ہاسٹل کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کا بھی الزام عائد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: باجوڑ کنڑ سرحد پر برفباری سے ہلاک دہشتگرد بھی افغان شہری نکلا
تاہم سرکاری اور باخبر ذرائع نے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا ہے۔
حکام کے مطابق اس نوعیت کی کوئی فضائی کارروائی نہ تو کی گئی ہے اور نہ ہی کنڑ یونیورسٹی یا اس کے کسی ہاسٹل کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق یہ رپورٹس غیر مصدقہ اور گمنام ذرائع پر مبنی اور منظم پروپیگنڈا کا حصہ ہیں۔
منظم معلوماتی مہم کا الزام
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض حلقے غیر تصدیق شدہ معلومات اور گمنام دعوؤں کو بنیاد بنا کر ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا مقصد پاکستان کو ایک جارح ریاست کے طور پر پیش کرنا ہے۔
مزید پڑھیے: دہشتگردی ختم کرنے کا دباؤ: افغان طالبان ٹی ٹی پی حمایت پر تقسیم؟
حکام کے مطابق اس نوعیت کی خبروں میں غیر واضح ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ جھوٹی معلومات کو حقیقت کا رنگ دیا جا سکے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کنڑ یونیورسٹی یا کسی بھی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے کے حوالے سے تمام دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق کے مطابق ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق یہ صورتحال ایک مربوط اور منظم معلوماتی مہم کی نشاندہی کرتی ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد کی بندش سے پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری، دہشتگرد حملوں میں کتنی کمی آئی؟
حکام نے کہا ہے کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی یہ کوششیں قابلِ مذمت ہیں اور عوام کو ایسے غیر مصدقہ دعوؤں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔














